قاہر ہ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام)مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے 22حامیوں کو پھانسی کی سزا کا حکم دے دیاگیا، مدعاعلیہان کا کہنا ہے کہ مصر میں سابقہ حکومت کے حامیوں کو دی جانے و الی سزائوں کے بارے میں مفتی اعظم مصر سے باقاعدہ فتویٰ بھی لیا جائے گا۔ ملزمان سزا کے خلاف اپیل کرسکتے ہیںلیکن اگر اعلیٰ عدلیہ نے ان کی سزا کو برقرا ر رکھا اور فتوی بھی ان کے حق میں نہیں آیا تو انہیں20یا 21اپریل کو پھانسی دے دی جائے گی۔ ان افراد پر2013 میں پولیس اسٹیشن پر حملہ اور پولیس افسر کے قتل کا الزام ہے۔اخوان حکومت کے خاتمہ کے بعد سے اب تک مرسی کے 14سو حامیوںکو ہلاک ،سینکڑوںکو سزائے موت کا حکم اور ہزاروں کو قید کیاجاچکا ہے۔تفصیلات کے مطابق مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے 22حامیوں کو پھانسی کی سزا کا حکم دے دیاگیا،استغاثہ کے مطابق مدعاعلیہان نے 3 جولائی 2013ء کو قاہرہ کے نواح میں واقع قصبہ کرادسہ میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھاجس میں ایک پولیس افسر مارا گیا تھا۔عین اسی روز مصر کی مسلح افواج کے سربراہ اور موجودہ صدرعبدالفتاح السیسی نے ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت برطرف کردی تھی۔مدعاعلیہان قاہرہ کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔اگر اعلیٰ عدالت نے ان کی سزاوں کو برقرار رکھا تو پھر ان سے متعلق فیصلے کو توثیق کے لیے مفتی اعظم مصر کے پاس بھیجا جائے گااور اگر انھوں نے بھی فیصلہ کو برقرار رکھا تو پھر پھانسی پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔