سابق اوپنر شعیب محمد پر بیرونی کھلاڑی کوترجیح

کراچی ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) زمبابوے کے سابق کپتان گرانٹ فلاور کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کئے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ پر سابق کھلاڑیوں نے شدید تنقید کی ہے۔ دریں اثناء پاکستان کے سابق بیٹسمین اور کوچ محسن خاں نے کہا کہ فلاور کا انتخاب سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ وہ بحیثیت کوچ اور بیٹسمین زمبابوے کیلئے کچھ نہیں کرپائے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلاور ایک اوسط درجہ کے کھلاڑی رہے ہیں اور انہیں پاکستانی بیٹنگ ٹیم کا کوچ مقرر کئے جانے کے درپردہ حقائق سمجھ سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ گرانڈ فلاور کے کسی بھی صورت میں مخالف نہیں ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں کوچ منتخب کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے

وہ آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ ملک میں کئی بہتر کوچ موجود ہیں۔ ذرائع کے بموجب بورڈ کی جانب سے تشکیل دی گئی کوچنگ کمیٹی نے صدر کوچ، بیٹنگ کوچ، اسپن بولنگ کوچ، فلڈنگ کوچ اور ٹرینر کیلئے ناموں کی تجویز دی تھی اور عہدوں کیلئے 8 درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور یہ تمام بیٹنگ کوچ کیلئے تھی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہیکہ جو درخواستیں موصول ہوئیں ان میں بیشتر امیدواروں کی قابلیت اعلیٰ معیار کی نہیں تھی یا پھر انہیں کوچنگ کا معمولی تجربہ حاصل تھا۔ لہٰذا بورڈ کے پاس گرانٹ فلاور اور ٹیم کے سابق ٹسٹ اوپنر شعیب محمد میں کسی ایک کا انتخاب کرنا باقی رہ گیا تھا۔ محسن خان نے پی سی بی پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نجم سیٹھی اور ان سے پہلے ذکا اشرف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے کچھ نہیں کیا ہے۔