عادل آباد /3 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع عادل آباد کے کسان جاریہ سال خواطر خواہ فصل نہ ہونیکے بناء پر جہاں ایک طرف حالات کا شکار بنے ہوئے ہیں وہیں دوسری طرف ریاستی وزراء ’’ ہوا ‘‘ میں اڈان بھرتے ہوئے عوام کے پیسہ کا بے جا استعمال کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار تلگودیشم پارٹی پولیٹ بیورو و سابق رکن لوک سبھا عادل آباد مسٹر راتھوڑ رمیش نے مستقر عادل آباد کے تلگودیشم پارٹی دفتر میں میڈیا سے مخاطب ہوکر کیا ۔ جبکہ اس موقع پر ریاستی میناریٹی قائد مسٹر یونس اکبانی، بالرام جادو ، راجہ ریڈی، راجیشور ، رفیق ، شنکر ، ونود بھی موجود تھے ۔ مسٹر راتھوڑ نے ریاستی وزیر پنچایت راج و آئی ٹی مسٹر کے تاراکاراما راؤ کے ضلع عادل آباد دورے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کو خوش سالی سے متاثرہ ضلع قرار دیتے ہوئے زراعت پیشہ افراد کو امداد پہونچانے میں حکومت ناکام ہوچکی ہے جس کے بناء پر کسان خودکشی کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ سکریٹریٹ کی جدید عمارت حیدرآباد کے ایراگڈہ میں 150 کروڑ روپیوں کے صرف سہ تعمیر کے منصوبہ ہر چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر سخت تنقید کرتے ہوئے ریاستی عوام کو روپیوں کا غلط استعمال قرار دیا ۔ ضلع میں واٹر گریڈ اسکیم کے تحت صاف اور شفاف پینے کا پانی فراہم کرنے کے 4090کروڑ روپیوں کے تحت صرف 30 کروڑ روپئے منظور کرنے پر بھی مسٹر کے تارکراما راؤ ، ریاستی وزیر پر تنقید کیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر ٹی راجیا کو اپنے عہدے سے برطرف کرنے کے اقدام کو غیر درست ظاہر کرتے ہوئے ضلع سے تعلق رکھنے والے وزراء پر شعبہ کرتے ہوئے کہا کہ عہدیادروں کے تبادلے ترقیاتی و تعمیراتی کاموں میں ٹھیکہ داروں سے کمیشن کی وصولی کے تعلق سے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی لاعلمی کو معنی خیز قرار دیا ۔ ضلع عادل آباد کے دو اراکین اسمبلی ریاستی وزارت میں شامل ہونے کے باوجود ضلع کو خشک سالی سے متاثرہ ضلع قرار دینے میں تاہم ناکام ظاہر کیا ۔