محبوب نگر /9 جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) پارلیمنٹ میں منگل کے دن وزیر ریلوے سدانند گوڑا کے پیش کردہ ریلوے بجٹ میں ضلع محبوب نگر کو ایک مرتبہ پھر نظرانداز کیا گیا ہے ۔ گدوال تا رائچور لائین پر کوئی نئی ٹرین کا اعلان نہیں کیا گیا جبکہ اس لائین پر ڈیمو ٹرین ہی چلائی جارہی ہے ۔ معلنہ بجٹ میں ضلع کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں کیا گیا ۔ گدوال ، ماچرلہ ، ونپرتی سے گذرنے والی لائین کیلئے ضلع کے عوام کافی امیدیں لگائے ہوئے تھے لیکن اس بجٹ میں انہیں مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ فلک نما تا محبوب نگر ڈپلنگ کاموں کیلئے ہری جھنڈی نہ بتانے سے ریلوے کواسنگ کے پرانے مسائل اب آگے بھی بقرار رہیں گے ۔ ضلع سے گذرنے والی سکندرآباد ، تروپتی ڈبل ڈیکر ٹرین کو بھی روک دیا گیا ہے ۔ اس کی بحالی کا بھی کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ رائچور تا گدوال لائین پر کام مکمل ہوچکا ہے ۔ صرف نئی ٹرینوں کے چلائے جانے کا اعلان ہی باقی تھا ۔ ایسے وقت میں بھی بجٹ میں اس کا تذکرہ نہ کرنا ضلع محبوب نگر سے تعقب کو ظاہر کرنا ہے ۔ حالانکہ ضلع کے دونوں ایم پیز نے اس ضمن میں وزیر ریلوے سے متعدد نمائندگیاں کیں لیکن یہاں بھی ناکامی ہاتھ آئی ۔ ریلوے اسٹیشن گدوال کے تحت 101 ایکر اراضی پر مشتمل ریلوے ڈرائیونگ تربیتی مرکز کے قیام کیلئے برسوں سے مطالبہ جاری تھا جس سے علاقہ کی ترقی کے کچھ امکانات تھے ۔ لیکن بجٹ میں اس کے امکانات بھی ختم ہوگئے ۔ البتہ محبوب نگر تامیز آباد نئی ریلوے لائین کیلئے 160 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے گئے ۔ وزیر ریلوے نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ ملک بھر میں ایسے ریلوے گیٹس جہاں پر نگرانکار نہیں ہیں ۔ وہاں پر نگرانکاروں کے تقررات کئے جائیں گے ۔ اگر یہ ممکن ہوسکا تو ضلع میں موجود 50 ریلوے گیسٹ پر بھی نگرانکاروں کے تقررات کے امکانات ہیں ۔ مودی سرکار کے پہلے ریلوے بجٹ میں ضلع کیلئے کوئی نئی ٹرین کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ روکی گئی پرانی ٹرینوں کی بحالی کا کوئی ذکر ہوا جس سے مجموعی طور پر ضلع کے عوام میں مایوسی کی کیفیت دیکھی جارہی ہے ۔