ریاست میں برقی بحران کیلئے سابقہ حکومتیں ذمہ دار

سوریا پیٹ کے قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت ، وزیر تعلیم جگدیش ریڈی کا خطاب

سوریا پیٹ /16 اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ حکومت ریاست کی ترقی کیلئے شب و روز سرگرم کوشاں ہے ۔ پیشرو حکومتیں صرف اور صرف اپنے علاقوں کی ترقی کیلئے کوششیں کیں جس کی وجہ سے تلنگانہ ناانصافی کا شکار ہوگیا ۔ جی جگدیش ریڈی ریاستی وزیر تعلیم تلنگانہ نے مختلف پارٹیوں کے قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ برسوں حکومت پر فائز رہنے والے آج تلنگانہ کی چار ماہ کی حکومت پر بے جا تنقیدیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کانگریس و تلگودیشم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں برقی بحران کیلئے یہ دونوں جماعتیں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو ترقی دینا ،غرباء کی زندگی کو معیاری سطح پر لانا اور حکومت کی اسکیمات و مراعات کو حقیقی مستحقین تک پہونچانا وزیر اعلی کے سی آر کا اولین ترجیح ہے ۔ جی جگدیش ریڈی نے این چندرا بابونائیڈو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نائیڈو کے دور حکومت میں ہی سب سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی ۔ انہوں نے کسانوں کے نام پر بس یاترا اور برقی مسئلہ پر ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کرنے والوں کا مضحکہ اڑایا ۔ انہوں نے کہا کہ پیشرو حکومتوں کے قائدین کو تلنگانہ حکومت پر تنقید کا اخلاقی حق نہیں ہے ۔ تنقید کے بجائے وہ اپنے گریبانوں میں دیکھیں کہ انہوں نے تلنگانہ کیلئے کیا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ وزیرنے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ جوق در جوق لوگ ٹی آر ایس میں شامل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر ٹی آر ایس میںشامل ہونے والے قائدین کو پارٹی کھنڈوا پہناکر خیرمقدم کیا ۔ وٹے پلی جانیا ایم پی پی منڈل سوریاپیٹ وٹے رینوکا سرپنچ گاندھی نگر چندرا ریڈی کانگریس صدر کونسلرس پی نرسیا ای سشما رانی ڈاکٹر پی ونجا جی نائیک جی سری ودیا اپنے زائد از تین ہزار حامیوں کے ہمراہ شمولیت اختیار کی ۔ اس اجلاس کی صدارت این سرینواس گوڑ ٹاون صدر ٹی آر ایس نے کی ۔ اس موقع پر گنڈوری پرکاش اکشو ریڈی ، ایم سرینواس اور دیگر موجود تھے ۔