ریاستی مفادات کیلئے چیف منسٹر بھروسہ ضروری : عمر عبداللہ

سرینگر 9 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج کہا کہ کسی بھی ریاست کے چیف منسٹر پر اپنی ریاست کے مفادات کے تعلق سے فیصلہ پر اعتبار کیا جانا چاہئے بصورت دیگر یہی بہتر راستہ ہے کہ ریاستی حکومتوں کو بیدخل کردیا جائے اور مرکز سے راست حکمرانی چلائی جائے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کا فیصلہ یہ اشارہ ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کے مابین سوائے حکمرانی کی برقراری کے ہر چیز پر اختلافات ہیں۔ عمر عبداللہ نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ انہیں مفتی سعید پر کسی طرح کا یقین نہیں ہے لیکن ایک چیف منسٹر پر اعتبار کرنا چاہئے کہ وہ اپنی ریاست کے مفادات کے سلسلہ میں فیصلے کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی ریاست کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا نہیں کا فیصلہ کرنے کیلئے کسی چیف منسٹر پر اعتبار نہیں کرسکتے تو پھر بہتر راستہ یہی ہے کہ ریاستی حکومتوں کو منتشر کردیا جائے اور دہلی سے راست حکومت کی جائے ۔ نیشنل کانفرنس کے ورکنگ صدر وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمنٹ میں اس بیان پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسرت عالم کی رہائی کے مسئلہ پر کشمیر کی حکومت نے مرکز سے مشورہ نہیں کیا اور نہ اسے مطلع کیا ہے ۔