رہزن احاطہ عدالت میں پولیس کو چکمہ دے کر فرار

ایس ایم بلال
حیدرآباد۔2فبروری۔ ایک عادی و خطرناک رہزن پولیس تحویل سے بڑی آسانی سے آج رنگاریڈی کورٹ سے فرار ہوگیا جس کے نتیجہ میں مختلف شبہات اُبھر رہے ہیں ۔ حیدرآباد و سائبرآباد کے مختلف علاقوں میں تقریباً 150سے زائد رہزنی کی وارداتوں میں ملوث 21سالہ محمد عقیل الدین عرف خلیفہ آج ایل بی نگر کے دو پولیس کانسٹبلس کو مبینہ طور پر چکمہ دیتے ہوئے احاطہ عدالت میں پولیس تحویل سے فرار ہوگیا ۔ خلیفہ کے اچانک عدالت سے آسانی سے فرار ہونے پر اس کے انکاؤنٹر ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہیکہ خلیفہ کو چنچلگوڑہ جیل سے ایل بی نگر پولیس سیشن سے وابستہ دو کانسٹبلس شیکھر اور اپیندر نے پی ٹی وارنٹ پر اپنی تحویل میں لیکر کتہ پیٹ میں واقع رنگاریڈی کورٹ منتقل کرتے ہوئے متعلقہ مجسٹریٹ اجلاس پر پیش کیا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ عدالت میں پیش کرنے کے بعد پولیس کانسٹبلس خلیفہ کے ساتھ وہاں کی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا۔اس کے بعد دونوں کانسٹبلس آپس میں بات چیت میں مصروف تھے کہ رہزن موقع کا فائدہ اٹھاکر فرار ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ خلیفہ ایک موٹر سیکل پر کسی پرانے ساتھی کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ایل بی نگر زون مسٹر تفسیر اقبال نے بتایا کہ کانسٹبلس کی شکایت پر چیتنیا پوری پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس کی تلاش جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے محمد عقیل الدین عرف خلیفہ جو پیشہ سے ہارڈ ویر و نیٹ ورکنگ انجنیئر ہے اور وہ علی نگر، چندرائن گٹہ کا ساکن ہے اور وہ شہر کے خطرناک رہزن 23سالہ سید حسین عرف لمبا حسین کا ساتھی ہے ۔ خلیفہ، حسین کے ہمراہ موٹر سیکل پر راہ چلتی خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے گلے سے طلائی چین اڑا لیا کرتا تھا اور اس سلسلہ میں سال 2010 /11/12ء میں ایس آر نگر پولیس ، چھتری ناکہ پولیس ، مشیرآباد پولیس اور چادرگھاٹ پولیس کے علاوہ سعیدآباد پولیس نے اُسے گرفتار کیا تھا ۔ خطرناک رہزن گذشتہ چند عرصے سے چنچلگوڑہ جیل میں محروس تھا اور اسے وقفہ وقفہ سے حیدرآباد و سائبرآباد پولیس مختلف مقدمات میں پی ٹی وارنٹ پر ریمانڈ کررہی تھی ۔ خلیفہ کی تلاش کیلئے حیدرآباد کی کمشنر ٹاسک فورس ٹیمیں اور سائبرآباد اسپیشل آپریشن ٹیم سرگرم ہوگئی ہے ۔