رکاس پیٹ کے پلاٹ فارم کو اونچا کرنے کی ضرورت

بودھن۔/19مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بودھن شہر کے وسط میں تقریباً چار سال قبل قائم کئے گئے رکاس پیٹ ریلوے اسٹیشن کا فی نیچے ہونے کی وجہ سے خواتین، بچے اور بوڑھوں کے علاوہ معذور افراد کو یہاں سے ٹرین میں سوار ہونے اور ٹرین سے نیچے اُترنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہاں ٹرین بمشکل صرف 120سیکنڈ ( دو منٹ ) توقف کرتی ہے ۔ کئی دہوں سے مسلسل عوامی مطالبہ و احتجاج کے بعد سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر مدھو یاشکی گوڑ اور سابق صدرنشین بلدیہ بودھن جناب محمد غوث الدین و سابق بلدی کونسل کے ارکان کی خصوصی دلچسپی کے باعث بودھن شہر کے وسط رکاس پیٹ میں ریلوے اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ گزشتہ پارلیمنٹ و اسمبلی اور بلدی انتخابات کے موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اپنی انتخآبی مہم کے دوران بودھن کی عوام سے رکاس پیٹ ریلوے اسٹیشن کے پلاٹ فارم کو اونچا کرنے اور ریلوے گیٹ کے قریب ریلوے بریج تعمیر کروانے کا عوام سے وعدہ کیا تھا ۔ اتفاق سے بلدیہ سے لیکر پارلیمنٹ کی نشست پر ایک ہی سیاسی جماعت ٹی آر ایس کا قبضہ ہے ۔ رکن پارلیمنٹ محترمہ کے کویتا بودھن سے لاتور تک تقریباً 110کیلو میٹر طویل ریلوے پٹریوں کی توسیع کرنا چاہتی ہیں تو رکن پارلیمنٹ مسٹر بی بی پاٹل بودھن سے ظہیرآباد برائے بیدر ریلوے لائن قائم کرنا چاہتے ہیں تو بودھن کے شہریان کیلئے خوش آ:ند خبریں ہیں۔ مذکورہ پراجکٹس کی تکمیل کیلئے 500کروڑ روپئے درکار ہیں۔ لیکن بودھن کی عوام فی الفور رکن پارلیمنٹ سے اپنے خصوصی فنڈ سے صرف 10لاکھ روپئے استعمال کرتے ہوئے رکاس پیٹ کے ریلوے پلاٹ فارم کو اونچا کروانے اور پارلیمنٹ کی پانچ سالہ میعاد کے ختم ہونے تک یہاں ریلوے گیٹ کے قریب ریلوے بریج تعمیر کرنے کا عوام مطالبہ کررہی ہے۔