مبالغہ آرائی کے ذریعہ تنازعہ پیدا کرنے کی سازش ۔ الحرمین الشریفین کے نگران ادارے کی وضاحت
جدہ ، 5 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرقد رسول اور حجرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متبادل مقام پر منتقلی کی غیر ملکی اخبارات میں افواہوں کے بعد الحرمین الشریفین کے نگران ادارے نے دو ٹوک الفاظ میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبر رسولؐ کی منتقلی کا کوئی فیصلہ ہوا اور نہ ہی ایسا ہو گا۔ یہ ایک شخص کی رائے تھی جسے مبالغہ آرائی کی حد تک اچھال کر ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے نگران ادارے کے ترجمان احمد المنصوری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ حجرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسرے مقام پر منتقلی کا کوئی پروگرام نہیں بنایا گیا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی متنازعہ تجویز دی گئی ہے۔ مسجد نبوی کی توسیع سے متعلق ایک رپورٹ کی تیاری میں ایک انجینئر کی رائے تھی کہ توسیعی کام کے باعث روضہ رسولؐ متاثر ہو سکتا ہے، اس پہلو سے قبر رسولؐ کی جگہ کی تبدیلی کی بات سامنے آئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ سعودی حکومت اسلام کی خادم اور الحرمین الشریفین کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ اس نوعیت کی متنازعہ تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حمایت کی جائے گی۔ کسی فرد واحد کی رائے کو حکومت پر تھوپنے کی کوشش نہ کی جائے۔ ترجمان نے کہا کہ الحرمین الشریفین کے سر پرست ادارے کی جانب سے ذرائع ابلاغ اور عوم الناس کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ قبر رسولؐ کی متبادل مقام پر منتقلی کی افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ حقائق کو سامنے رکھیں۔ مرقد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی دوسرے مقام پر منتقلی ممکن ہی نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی بات کی جانی چاہئے۔ اس نوعیت کی خبریں اور افواہیں پھیلانے والے فتنہ پرور لوگ ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے مسلمانوں میں تنازعات کو ہوا دے رہے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ کے دو اخبارات نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکومت مسجد نبوی کی توسیع کے منصوبے کے تحت قبر رسولؐ کی متبادل مقام پر منتقلی کا ارادہ رکھتی ہے۔