رمادی کا قبضہ واپس لینے فوجی آپریشن کا آغاز

بغداد ۔23 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) عراقی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا نے دولتِ اسلامیہ سے صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کا قبضہ واپس لینے کیلئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور اس وقت لڑائی رمادی کے مشرق میں واقع شہرحصیبہ میںجاری ہے۔گذشتہ اتوار کو دولت اسلامیہ نے رمادی پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد عراقی وزیراعظم نے شہر کو واپس لینے کیلئے شیعہ ملیشیا کو مدد کیلئے بلایا تھا۔پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے ’اے ایف پی ‘ کو بتایا کہ رمادی سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حصیبہ شہر کو آزاد کرانے کیلئے فوجی آپریشن شروع کر دیاگیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق حصیبہ کے فوجی اڈے سے سکیورٹی اہلکاروں کو روانہ ہوتے دیکھا گیاہے۔ اس کے علاوہ شیعہ ملیشیا کے تین ہزار اہلکار بھی شہر میں موجود ہیں اور رمادی شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔دوسری جانب عراقی حکام نے اس اہم پل کو بند کر دیا ہے جس کے ذریعے لوگ رمادی شہر سے نقل مکانی کرکے دارالحکومت بغداد میں داخل ہو رہے ہیں۔رمادی پر دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا قبضہ ہونے کے بعد تقریباً 40 ہزار سے زیادہ لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔