مناما۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بحرین کو دنیا کا مستحکم ملک ظاہر کرنے کی کوشش‘ رقم کی قلت کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے ۔ ڈسکور بحرین ایک ایسا پراجکٹ ہے جس کے ذریعہ ’’گُڈورلڈ سوسائٹی ‘‘ عوام کو ہر سال بحرین کے 9روزہ سیاحتی دورہ کی ترغیب دینا چاہتی ہے ۔ 25صحافیوں ‘ ماہرین معاشیات اور پروفیسرس کو بحرین کی ثقافت ‘ معیشت اور تہذیبی ورثہ کے مقامات کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ یہ اسکیم 2012ء سے ہر سال منعقد کی جاتی رہی ہے اور جنوری میں دوبارہ مقرر تھی لیکن اسے رقمی قلت کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا ۔ پروگرام کے ڈائرکٹر احمد بوہازا نے کہا کہ ہر چیز تیار ہے ‘ جن لوگوں کو ہم بحرین لاناچاہتے ہیں اُن کا گروپ اور پورا پروگرام تیار ہے ۔ لیکن مختلف سرکاری محکموں ‘ صنعتوں اور کاروباری اداروں کے درمیان ہر سلسلہ میں ہم آہنگی کیلئے مزید 6ماہ کی مدت درکار ہوگی ۔
اس سال ہم دورہ کے لئے ضروری اسپانسرشپ حاصل نہیں کرسکے ‘ پورے دورہ کیلئے ہمیں 35ہزار بحرینی دینار کی ضرورت ہے اگر ہمیں کوئی سرپرست حاصل ہوجائے تو جاریہ سال نومبر میں اس پروگرام کا انعقاد ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہینوں کی منصوبہ بندی بے فائدہ ثابت ہوچکی ہے ‘ حالانکہ بحرین کے دورہ کیلئے مہمانوں کو دعوت بھی روانہ کردی گئی تھی ۔ اس پروگرام کی تحریک اسی طرح کے دنیا کے دیگر مقامات پر منعقد کئے جانے والے پروگراموں سے بحرین کو بھی ملی تھی ۔ اس دورہ میں صنعتوں ‘ تہذیبی مقامات اور تہذیبی ورثاء کے حامل مقامات کے دورہ شامل تھے ۔ گذشتہ ہفتہ ہم نے اپنے مہمانوں کو بحرین نیشنل میوزیم ‘ نیشنل تھیٹر ‘ بحرین قلعہ اور محرق کے تاریخی مکانوں کا دورہ کے پہلے دن ہی مشاہدہ کروایا تھا ۔ مذہبی دوروں کے پروگرام کے سلسلہ میں جامع مسجد الفتح ‘ سیکریڈ ہارڈ چرچ اور دیگر مذہبی مقامات کا دورہ کروایا گیا تھا ۔