رشوت سے پاک ورلڈکپ کا انعقاد سب سے بڑا چیلنج

دبئی 4 فروری (سیاست ڈاٹ کام) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایکزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا ہے کہ دو ماہ طویل میگا ایونٹ کے دوران رشوت سے پاک اور محفوظ ورلڈکپ کا اہتمام کرنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ آئی سی سی ورلڈکپ کا آغاز 14 فروری سے ہوگا جب میزبان آسٹریلیا اور معاون میزبان بالترتیب انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف ملبورن میں مقابلہ کریں گے۔ رچرڈسن نے کہاکہ اس مرتبہ سکیوریٹی پر آئی سی سی نے بہت زیادہ صرفہ کیا ہے۔ رچرڈسن نے کہاکہ ’’سکیوریٹی … میرے خیال میں عالمی صورتحال کی ایک جھلک ہے جس کا ہم سامنا کررہے ہیں۔ یہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اس ورلڈکپ میں سکیورٹی پر جو مصارف ہوتے ہیں وہ پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’ماضی میں سفر اور رہائش کے مصارف سکیورٹی پراجکٹس سے زیادہ تھے لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ یہ (سکیورٹی) اس ورلڈکپ کے لئے بھاری مصارف ہیں۔ علاوہ ازیں انعامات کی رقم بھی ہے‘‘۔ رچرڈسن نے کہاکہ ’’یہ (سکیورٹی) اس کے سنگین چیلنج ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے مؤثر انتظامات کئے گئے ہیں اور ٹورنمنٹ کیلئے بذات خود کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

تاہم ظاہر ہے کہ ہمیں عالمی صورتحال سے باخبر رہنا ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ یقینا دوسرا اہم عنصر ہے۔ ان خطوط پر رونما ہونے والا ایک واقعہ بھی اس ایونٹ کے لئے تباہ کن المیہ ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے نمٹنے کے لئے بھی پہلے کے مقابلہ کہیں زیادہ بہترین سطح پر تیاری کی گئی ہے‘‘۔ ڈیوڈ رچرڈسن جنوبی افریقہ کے سابق کپتان بھی ہیں۔ اُنھوں نے اپنے اس اعتماد کا اظہار کیاکہ ورلڈکپ 2015 ء ہر قسم کی بے قاعدگی، رشوت اور بدعنوانی سے پاک و محفوظ رہے گا۔ اس مقصد کے لئے انسداد رشوت ستانی یونٹ اور مقامی پولیس حکام کو پہلے ہی چوکس کیا جاچکا ہے۔ انسداد رشوت ستانی کا شعبہ گزشتہ دو تین سال سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی پولیس کے ساتھ متحرک ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ کئی یادداشت ہائے مفاہمت پر دستخط بھی کئے گئے ہیں تاکہ میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ جیسی سرگرمیوں میں مشتبہ طور پر ملوث افراد کا دنیا بھر کے مختلف علاقوں سے یہاں پہونچنا دشوار سے دشوار ترین بنایا جائے۔

ڈیوڈ رچرڈسن نے کہاکہ اس مرتبہ انٹلی جنس میں بھی بہتری کی گئی ہے۔ اس سے قبل ہمیں حقیقی طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ فکسرس کون ہیں اور وہ کس طرح کام کرتے ہیں۔ لیکن اب ایسے افراد کی تمام تر تفصیلات ہمارے پاس موجود ہیں۔ جن کی تفصیل میں جانے پر 100 سے زائد نام آتے ہیں، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ایمیگریشن اور پولیس حکام کو حوالے کئے جاچکے ہیں۔ اس طرح میچ فکسرس کی سرگرمیوں کو بڑی حد تک روکا جاسکتا ہے۔ انسداد رشوت ستانی کے عہدیدار اب نہ صرف کھیل کے دونوں مقامات اور گراؤنڈس پر نظر رکھیں گے بلکہ مقامات اور ہوٹلوں پر بھی خفیہ نظر رکھی جائے گی جہاں متعلقہ افراد رہتے ہیں یا اُن کی آمد و رفت ہوگی۔ تمام کرکٹ کھلاڑیوں کیلئے خصوصی تربیتی پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے جو غالباً ان (کھلاڑیوں) کیلئے بوریت کا سبب بن رہا ہوگا۔ لیکن میچ فکسر ہمیشہ نئے حربے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جن سے ہم کھلاڑیوں کو باخبر کررہے ہیں۔