کاماریڈی:12؍ مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے آج صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے کویتا، وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی کل ہند کانگریس کی جانب سے نائب صدر راہول گاندھی کے کسان بھروسہ یاترا کے دورہ کو سیاسی دورہ قرار دینا سراسر غلط اور گمراہ کن ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ رکن پارلیمنٹ کویتا اور وزیرزراعت مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی کے حلقوں میں کسانوں کی خودکشی کی اموات کی روک تھا م کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور نہ ہی خودکشی کرنے والے خاندانوں سے اظہارتعزیت کرنا بھی مناسب سمجھا اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ انہیں کسانوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مسٹر شبیر علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے قیام کے بعد اب تک 900 کسانوں کی خودکشی کی امواتیں ہوئی ہیں لیکن کوئی بھی منتخب نمائندہ ان کسانوں سے ہمدردی کرنامناسب نہیں سمجھا جبکہ گمراہ کن بیانات جاری کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی کسان کی اموات نہیں ہوئی ۔ کل ہند کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی تلنگانہ میں ہوئی کسانوں کی خودکشی کی اموات کی روک تھام اور کسانوں میں اعتماد کی بحالی عمل میں لاتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی جتانے کیلئے دورہ کررہے ہیں نہ ہی تلنگانہ میں انتخابات ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پروگرامس کئے جارہے ہیں یہ صرف کسانوں سے کانگریس پارٹی کی ہمدردی ہے اور اسے سیاست قرار دینا سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔ مسٹر شبیر علی نے کہا کہ ٹی آرایس حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعویٰ کرتے ہوئے برقی سربراہ کرنے کے دعویٰ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خریف کے سیزن سے قبل کسانوں کو کاشت میں کمی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جس کی وجہ سے 40 فیصد ضلع میں کاشت کی گئی۔ ضلع میں گذشتہ سال پانچ لاکھ ہیکٹر پر دھان کی فصل کی کاشت کی گئی تو اس سال صرف دو لاکھ ہیکٹر پر کاشت کی گئی اسی طرح نیشکر، مکئی اور دیگر فصلوں کی بھی 40 فیصد کاشت کرنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے انتخابات سے قبل کئے گئے اعلانات کو انحراف کرنے کے علاوہ شہیدان تلنگانہ سے بھی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کاماریڈی میں کریم نے تلنگانہ کے حصول کیلئے ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی تھی اور اس واقعہ کے بعد موجودہ وزیر فینانس ایٹالہ راجندر، ہریش رائو نے کاماریڈی پہنچ کر کریم کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مکمل انصاف کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن شہیدان تلنگانہ کی فہرست میں ان کے نام کو شامل نہ کرنے پر دیگر نوجوانوں کے ناموں کو بھی شامل نہیں کیا گیا جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو صرف جھوٹی بیان بازی کے سوا کسی بھی چیز سے دلچسپی نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے طلباء کو رعایتیں دینے کاصرف اعلانات کے سواء عملی طور پر کوئی بھی کام انجام نہیں دیا۔ مسٹر شبیر علی نے آرٹی سی ملازمین کے ہڑتالی کیمپ پہنچ کر ان سے اظہار یگانگت کی اور کہا کہ آرٹی سی ملازمین 8 گھنٹے خدمت انجام دیتے ہوئے عوامی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن حکومت ان کے جائز مطالبات کی یکسوئی میں ناکام ہوئی ہے۔ آرٹی سی ملازمین دھوپ، بارش، سردی میں باقاعدہ طور پر اپنی ڈیوٹی کو انجام دیتے ہیں حکومت 43 فیصد فٹمنٹ دینے سے قاصر ہے۔ آرٹی سی ملازمین سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے ان کی ہڑتال کی مکمل تائید کا اعلان کیا۔ مسٹر شبیر علی نے 14؍مئی کے دن راہول گاندھی کے دورہ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔