یلاریڈی 13 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ارزاں فروشی دوکانات پر غریب خاندانوں کو ہر ماہ راشن سربرہ کیا جاتا ہے لیکن تلنگانہ حکومت کی حکمرانی میں راشن کب سربراہ ہوگا یہ بتانا محال ہے۔ مہینہ کے کسی بھی حصہ میں راشن غریبوں میں سربراہ کیا جارہا ہے جس پر غریب افراد ہر ماہ کے پہلے ہفتہ سے روزانہ ارزاں فروشی کی دوکانات کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ فروری میں راشن 26 تاریخ کو لایا گیا اور عوام نے ماہ کے آخر ایام سے اپنا راشن حاصل کیا۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ اس میں راشن ڈیلروں کی کوئی غلطی نہیں ہے صرف عہدیداروں کی لاپرواہی سے راشن جب چاہے جب آرہا ہے۔ اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کے عوام کو یہ بھی شکایت ہے کہ ارزاں فروشی دوکانات پر تلنگانہ حکومت صرف غریبوں کو ابتک چاول ہی سربراہ کرتے آرہی ہے۔ جبکہ دوسری کسی اشیاء کا اب تک کوئی ذکر نہیں کررہی ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے تو عوام کو خوردنی تیل، نمک، املی، دال، آٹا، گیہوں اور دوسرے غذائی اجناس سربراہ کرکے غریبوں کو راحت دی تھی لیکن تلنگاہ سرکار ابھی تک اپنے راشن پیاکیج کا اعلان نہیں کیا ہے کہ باقی تمام ضروری غذائی اشیاء کب سے ارزاں فروشی پر غریبوں کو دستیاب ہوں گی۔ غریب عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تلنگانہ الگ ہوتے ہی راشن میں صرف اور صرف چاول ہی سربراہ کئے جانے پر یلاریڈی کے فوڈ سکیورٹی کارڈ رکھنے والے صارفین تعجب کا اظہار کررہے ہیں۔ اگر باقی اشیاء سربراہ کیا جانا بھی ہے تو آخر کب کریں گے۔ حکومت کو اقتدار سنبھالے 10 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور غریب تو صرف راشن کے نام پر چاول تک محدود رکھا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت پر کوئی کام جامع طور پر انجام نہ دینے کا عوام الزام لگارہے ہیں جس کا جائزہ لینا تلنگانہ حکومت کو ضروری ہے۔