راجستھان سے 25 مسلم امیدوار انتخابی میدان میں

جئے پور ۔ 16 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان ایک ایسی ریاست ہے جہاں 1952 ء سے اب تک صرف دو مسلمان ایم پی منظر عام پر آئے لیکن 2014 ء کے انتخابات جہاں متعدد وجوہات کی بنیاد پر سب کی توجہ کا مرکز ہیں وہیں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ راجستھان میں اب ایک دو نہیں بلکہ پورے 25 مسلم امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ دو مرحلوں میں ہونے والی رائے دہی کے پہلے مرحلہ کا کل سے آغاز ہورہا ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کانگریس جیسی قدیم ترین پارٹی نے صرف ایک مسلم امیدوار کو نامزد کیا ہے جبکہ بی جے پی نے کسی بھی مسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ گزشتہ 23 سالوں کے دوران راجستھان سے کوئی بھی ایم پی منتخب نہیں ہوا جبکہ ریاست میں مسلمانوں کا تناسب 11.4 فیصد ہے ۔

دوسری طرف گزشتہ 34 سالوں کے دوران بی جے پی نے کسی بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا جبکہ کانگریس نے 19 مسلم امیدواروں کو موقع دیا ہے۔ کجھنجھنو نشست سے 1984 ء اور 1991 ء میں کانگریس کے کیپٹن ایوب خان دو بار لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے جبکہ اسی حلقہ سے انہیں دو بار شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ 17 اور 24 اپریل لوک سبھا کیلئے دو مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کیلئے 25 نشستوں کے منجملہ 13 نشستوں پر مسلمان امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں ۔ کانگریس نے صرف ایک امیدوار سابق کرکٹر محمد اظہرالدین کو ٹکٹ دیا ہے جو ٹونک کے سوائی مادھو پور سے انتخابی میدان میں ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی نے پانچ مسلمانوں کو سماج وادی پارٹی نے دو اور عام آدمی پارٹی نے ایک مسلمان امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جبکہ بی جے پی نے کسی بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔

دوسری طرف آٹھ مسلم بحیثیت آزاد امیدوار انتخابات لڑ رہے ہیں جبکہ مزید مسلمان دیگر غیر معروف پارٹیوں کے ٹکٹ پر انتخابات لڑ رہے ہیں۔ جب بی جے پی سے اقلیتوں کو ٹکٹ دیئے جانے کے معاملہ پر سوال کیا گیا تو ریاستی نائب صدر اومکار سنگھ لکھاوت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جاتی ہے جو جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اس میں ہندو اور مسلمان کی کوئی تفریق نہیں ہے ۔ جیتنے والے امیدواروں کے انتخاب کی بھی کئی وجوہات ہوئی ہیں جیسے امیدوار کا پارٹی کیلئے خدمات انجام دینا یا پھر پارٹی سربراہ یا قومی سطح پر سفارش وغیرہ ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات میں 200 نشستوں پر مقابلے ہوئے تھے اور بی جے پی نے چار مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا جن میں سے صرف دو یونس خان اور حبیب الرحمن کو کامیابی ملی تھی۔