ملائم سنگھ یادو کو الیکشن کمیشن کا نوٹس۔ اجیت پوار پر بھی نشانہ
نئی دہلی ۔ /18 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) رائے دہندوں کو دھمکی دے کر ووٹ حاصل کرنے والے قائدین دراصل شکست کے خوف کا شکارہوتے ہیں ۔ اگر انہیں انتخابات میں ناکامی کا اندازہ ہوجائے تو وہ کامیابی کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔ مہاراشٹرا کے پہلے ڈپٹی چیف منسٹر این سی پی لیڈر اجیت پوار نے ایک موضع کے رائے دہندوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر این سی پی صدر شردپوار کی دختر سپریا سولے کو ووٹ نہیں دیا گیا تو ان کے گاؤں کو پانی نہیں دیا جائے گا ۔اب سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے بلند شہر میں سرکاری اسکول ٹیچرس کو دھمکی دی ہے کو الیکشن کمیشن نے سخت نوٹ لیتے ہوئے ملائم سنگھ یادو کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی ۔ اجیت پوار بھی اپنی مبینہ دھمکی پر الیکشن کمیشن کی تحقیقات کا سامنا کررہے ہیں ۔
پونے کے کلکٹر سربھ راؤ نے بتایا کہ چیف الیکشن آفیسر نے ہدایت دی ہے کہ اجیت پوار کے خلاف تحقیقات کی جائے ۔ رپورٹس کے مطابق ملائم سنگھ کو بھی الیکشن کمیشن کی نوٹس کا سامنا ہے ۔ ان پر ان کے عصمت ریزی سے متعلق ریمارکس کے خلاف بھی تنقیدیں ہورہی ہیں ۔ ملائم سنگھ نے الیکشن کمیشن پر جوابی تنقید کی ہے کہ اس نے ان کے عصمت ریزی ریمارکس پر نوٹس دی ہے اور ان کے پارٹی لیڈر اعظم خاں کو جلسے منعقد کرنے سے روک دیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی یہ کارروائی بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔