رائچور میں آئی آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ

حیدرآباد کرناٹک کے عوامی نمائندوں کی سمرتی ایرانی سے نمائندگی
رائچو ۔ 9 ۔ مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حیدرآباد کرناٹک کے منتخبہ عوامی نمائندوں کا قافلہ کانگریس پارٹی کے پارلیمانی حزب اختلاف قائد و گلبرگہ پارلیمانی حلقہ سے منتخب رکن پارلیمنٹ ملکارجن کھرگے کی قیادت میں نئی دہلی میں مرکزی وزیر برائے انسانی وسائل سمرتی ایرانی سے ملاقات کر کے بتایا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے قیام کیلئے رائچور بہت ہی مناسب مقام ہے جس کیلئے ننجنڈپا سفارشی کمیشن نے بھی اس مقام کی مکمل تائید کی ہے اور پچھلی بی جے پی حکومت نے بھی 2012 ء میں گلبرگہ میں منعقدہ ایک کابینی اجلاس میں بھی یہ طے کیا تھا کہ آئی آئی ٹی کا قیام رائچور ہی میں ہو ۔ موجودہ کانگریس کی سدارامیا حکومت نے بھی جو کرناٹک کے دیگر اضلاع کا نام پیش کیا ہے اس میں رائچور کا نام بھی شامل ہے ۔ وفد نے یہ بھی بتایا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے قیام کیلئے رائچور میں بہترین شاہراہوں کا جال بچھا ہوا ہے جس کے ذریعہ ہندوستان کے ہر بڑے شہر کو سفر کیا جاسکتا ہے ، رائچور سے تقریباً 170 کیلو میٹر دور پر حیدرآباد کے انٹرنیشنل ایرپورٹ کی سہولت ہے ۔ اس موقعہ پر کرناٹک کے سابق چیف منسٹر بی ایس ایڈیورپا اور رکن پارلیمان شوبھاکر ندلاجے کے علاوہ بی جے پی ، جنتادل سیکولر اور کانگریس کے مختلف منتخبہ عوامی نمائندے جن میں اراکین پارلیمان ملکاراجن کھرے ، بی ایس ایڈیورپا ، شوبھاکرندلاجے ، بسواراج پاٹل سیڑم ، رائچو ایم پی بی وی نائیک ، بلہاری ایم پی سری راملو ، کپل ایم پی شری کرڈی سنگنا ، بھگونت رائے کوبا ، ضلع رائچور کے نگرانکار وزیر شرن پرکاش پاٹل ، رکن اسمبلی رائچور ڈاکٹر شیوراج پاٹل اور دیگر قابل ذکر ہیں۔