نئی دہلی 26 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر سلمان خورشید جنھوں نے نریندر مودی کو ’’نامرد‘‘ کہہ کر ایک نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے، کہاکہ وہ آج بھی اپنے اُس ریمارک پر قائم ہیں کیونکہ 2002 ء کے گجرات مسلم کش فسادات کے تناظر میں مودی کے لئے اُنھیں اِس سے بہتر کوئی اور ’’لقب‘‘ نظر نہیں آیا۔ اُنھوں نے کہاکہ 2002 ء کے مسلم کش فسادات میں مودی نے جو رول نبھایا تھا، بہتری اِسی میں ہے کہ وہ اُس حقیقت سے مزید چشم پوشی نہ کرتے ہوئے اعتراف جرم کریں۔ سلمان خورشید نے کہاکہ وہ مودی کے ڈاکٹر نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کی جسمانی کیفیت سے واقف ہیں۔ لفظ ’’نامرد‘’ اُنھوں نے صرف سیاسی اصطلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کام کو انجام دینے کا اہل نہ ہو۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ مودی اس بات کا اعتراف کریں کہ یا تو وہ گجرات مسلم کش فسادات کی پشت پناہی کررہے تھے یا پھر وہ اُن فسادات کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ مودی کو یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ باوجود لاکھ کوششوں کے، وہ فسادات روکنے میں ناکام رہے اور اگر یہی سچائی ہے تو ’’نامرد‘‘ کہنا نامناسب کیسے ہوسکتا ہے؟ کیونکہ مودی ایک انتہائی اہم ذمہ داری انجام دینے میں ناکام رہے۔ بی جے پی اگر اب بھی مطمئن نہیں ہے تو میرا خیال ہے کہ اُنھیں لغت (ڈکشنری) سے استفادہ کرنا چاہئے جہاں نامرد صرف مردانگی کی کمی یا بچہ پیدا کرنے کی اہلیت نہ رکھنے والے مرد کی جانب ہی اشارہ نہیں ہے بلکہ ’’بزدل‘‘ کو بھی نامرد کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی مرد اپنی بیوی یا خاندان کے کسی بھی فرد کا کسی ناگہانی موقع پر تحفظ نہیں کرسکتا تو اُس کے گھر کی خواتین ہی اُسے ’’چوڑیاں پہن کر بیٹھ جاؤ‘‘ اور ’’نامرد‘‘ جیسے القاب سے نواز دیتی ہیں۔