کریم نگر۔/18ڈسمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع مستقر سے دور دراز کے غیرترقی یافتہ پچھڑے دیہی مقامات کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت نے مقامی ادارہ جات کو جاری کردہ بی آر جی ایف فنڈز پر روک لگادی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کی جانب سے دیہی ترقیاتی پروگرام کی عمل آوری پر اپنی چھاپ برقرار رکھنے اور اپنا کارنامہ ظاہر کرنے کیلئے تاخیر کی جارہی ہے۔2014-15 میں دور دراز کے دیہی مقامات کی ترقی کیلئے 36کروڑ 17لاکھ 70ہزار روپئے کے تخمینہ پر مشتمل ایک منصوبہ ضلع کریم نگر ضلع پریشد سے مرکزی حکومت کو بھیجا گیا تھا۔ اس پر مرکزی حکومت نے ضلع پریشد کی سفارش 32کروڑ 31لاکھ بی آر جی ایف فنڈس سے اجرائی کرنے کیلئے کی گئی خواہش کا جائزہ لیا اور یہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بی آر جی ایف فنڈس کے استعمال اور اجرائی کے سلسلہ میں قواعد میںکچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ منظورہ فنڈس کو روک لیا گیا۔ تلنگانہ اضلاع میں بی آر جی ایف فنڈس کیلئے رنگاریڈی اور کھمم بہت جلد منصوبہ عمل بھیج دیا تھا۔ انہیں 2014-15 کی منظوری دے دی ہے۔ سال گزشتہ جنہیں فنڈز منظور نہیں ہوا تھا عادل آباد کو بھی اس کے ساتھ جاریہ مالی سال فنڈز کی بھی منظوری دے دی ہے۔ ضلع کریم نگر کے منصوبہ عمل کی یادداشت کچھ دیر سے پہنچنے پر مرکزی حکومت اسی دوران اس میں کچھ ضابطہ اخلاق کی تبدیلی کا منصوبہ بنایا ہے جس کی وجہ سے اب کریم نگر کو بی آر جی ایف فنڈس ملے گا یا نہیں اس پر شک و شبہ کیا جارہا ہے۔ چھ اضلاع میں بی آر جی ایف پر فنڈز کی منظوری ہوگی یا نہیں کچھ کہنا مشکل ہے۔2007-08 مالی سال میں این ڈی اے حکومت کی تیار کردہ این جی آر وائی نامی اسکیم کی جگہ یو پی اے حکومت نے بی آر جی ایف نام رکھ دیا تھا یعنی پرانی بوتل نئی شراب کے مصداق اسے روبہ عمل لایا تھا۔ این جی آر وائی سے قبل کانگریس حکومت جواہر روزگار یوجنا نام دے کر اس اسکیم کی شروعات کی تھی۔ مرکز میں اقتدار میں تبدیلی پرنئی حکومتیں پرانے پروگراموں اور اسکیمات کا نام بدل کر اسے اپنے طور پر نام دیتی چلی آرہی ہیں۔2007 میں بی آر جی ایف کے تحت نامکمل اور ادھورے کاموں کی تکمیل کے مقصد سے دور دراز کے دیہی مقامات کی ترقی کیلئے فنڈس مختص کرتے آرہے تھے۔ پہلے اس سلسلہ میں پنج سالہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔2012-13 میں اس کا اختتام ہوا۔ قریب 128 کروڑ روپئے اس سال آیا تھا۔2013-14 میں دوسرا پنچ سالہ منصوبہ شروع ہوا ۔ پہلے سال دوسرے مرحلے کے منصوبہ میں 29کروڑ روپئے کی منظوری ہوئی ۔ دوبارہ دوسرے سال منصوبہ عمل مرکزی حکومت کو بھیجے جانے پر تیکنیکی جانچ کے بعد منظوری ہوجانے کے باوجود اس میں کچھ خاص تبدیلیوں کے نام پر روک دیا گیا۔ آئی ایس جی ڈی ایس کے بجائے این جی آر وائی ہوجانے کے مطابق این جی آر وائی ہوجانے کے مطابق این جی آر وائی کے بجائے بی آر جی ایف جس طرح رکھا گیا اب پھر اس اسکیم کا کیا نام دیا جائے گا یا پھر اسے ختم کردیا جائے گا اس کے لئے انتظار کرنا ہوگا۔ ضلع میں 2938 ترقیاتی کام بی آر جی ایف فنڈس سے کئے جانے کیلئے ان کاموں کی نشاندہی گرام سبھاؤں، منڈل سبھاؤں اور زیڈ پی جائزہ اجلاس اور مجلس بلدیہ کے اجلاسوں میں کونسلرس، کارپوریٹرس کی منظوری کے بعد قرارداد کی منظوری اور بعد ازاں فنڈز کی منظوری کے لئے منصوبہ عمل بھیجا گیا۔ بی آر جی ایف 50فیصد فنڈس گرام پنچایت کو راست بھیج دیا جاتا تھا۔1733ترقیاتی کاموں کیلئے 13 کروڑ 30لاکھ 8ہزار خرچ ہوگا۔ بی آر جی ایف فنڈ میں 12کروڑ 21لاکھ 64ہزار کی اجرائی کیلئے قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو مواضعات نے یادداشت بھیجی ۔ 30فیصد فنڈس منڈل پریشد کو بھیجے جانے 685 ترقیاتی کام کروائے جانے کے لئے57 منڈلوں میں انتظار کیا جارہا تھا۔ 7.32 کروڑ بی آر جی ایف ملنے پر دیگر فنڈس 65لاکھ شامل کرکے 7کرور 98لاکھ سے کاموں کی شروعات کیلئے انتظار کیا جاتا ہے۔ زیڈ پی 312 کام کروائے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔5کروڑ 30لاکھ 66 ہزار کا منصوبہ عمل تیار کیا اور اس میں 50لاکھ دیگر فنڈز شامل کرلینے کا منصوبہ بنایا۔ یو ایل بی کا حصہ شہری اور غیر ترقی یافتہ بلاکس میں 208ترقیاتی کاموں کیلئے 8.50 کروڑ کی منصوبہ بندی کرلی گئی اس میں 63175 لاکھ دیگر فنڈس شامل کرکے بی آر جی ایف 7 کروڑ 87لاکھ 72 ہزار شامل کرنے کیلئے انتظار کیا جارہا تھا اور اب یہ منصوبہ روبہ عمل لایا جائے گا یا نہیں اس کے لئے انتظار کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے