دہلی کی ناکامی کے سہواگ تنہا ذمہ دار نہیں:گمبھیر

نئی دہلی ۔ 6 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ٹیم کے سینئر اوپنر ویریندر سہواگ کی حمایت کرتے ہوئے کپتان گوتم گمبھیر نے کہا کہ رانجی ٹرافی کے ابتدائی مرحلہ سے ہی دہلی کا اخراج کہ ویرو واحد ذمہ دار نہیں اور اکیلے ان پر ٹیم کے ناقص مظاہروں کی ذمہ داری عائد کرنا انصاف کا تقاضہ نہیں ۔ سہواگ جنہوں نے 13 اننگز میں 20 سے بھی کم کی اوسط سے صرف 234 رن اسکور کئے ہیں۔ گمبھیر نے یہاں خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ رانجی ٹرافی میں دہلی کے کھلاڑیوں کا انفرادی مظاہرہ دیکھ لیں اور کس کھلاڑی نے کس طرح مظاہرہ کیا ، سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویریندر سہواگ کا یقیناً یہ ایک ناقص سیزن رہا لیکن یہ کھیل میں ہوتا ہے

اور یہی کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔ ضروری تھا کہ میں اور متھن منہاس ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے ٹیم کو آگے لے جائیں لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں پنجاب کے خلاف اس وقت ہوا جب ہم پہلی اننگز میں ایک بہتر سبقت حاصل نہیں کرسکے اور دہلی کا رانجی ٹرافی سے جلد اخراج کیلئے ویریندر سہواگ کو تنہا ذمہ دار ٹھہرانا صحیح نہیں ہے۔ گمبھیر نے ہریانہ کے نوجوان کھلاڑی نودیپ سینی کو جب ٹیم میں شامل کیا تو اس پر سوال اٹھائے گئے تھے، جس کا دفاع کرتے ہوئے گمبھیر نے کہا کہ ماضی میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جو کہ دہلی کے باشندے نہ ہونے کے باوجود دہلی کی ٹیم کیلئے غیر معمولی مظاہرے کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کون کیا کہتا ہے ، یہ اہم نہیں۔ میرے لئے تو یہ اہم تھا کہ ٹیم کیلئے کون فائدہ مند ہے اور کون نہیں۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بشن سنگھ بیدی نے نودیپ کے انتخاب کے خلاف دہلی کرکٹ اسوسی ایشن کے صدر ارون جیٹلی کے نام احتجاجی مکتوب بھی روانہ کیا ہے ۔

نودیپ نے رانجی ٹرافی کے دو کم اسکور والے مقابلوں میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ گمبھیر نے بشن سنگھ بیدی کے مکتوب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بشن پا جی نے کیا کہا ، یہ میرے لئے اتنا اہم نہیں جتنا کہ نوجوان کھلاڑیوں کا ٹیم کیلئے بہتر مظاہرہ کرنا ہے کیونکہ میں نے اس نوجوان کھلاڑی کو ایک باصلاحیت کرکٹر کی شکل میں دیکھا ہے اور یہ اہم نہیں کہ یہ نوجوان کھلاڑی دہلی کا باشندہ ہے یا نہیں۔ میں نے نودیپ کو ٹیم میں اس لئے شامل کیا تھا کوینکہ ان کی شمولیت ٹیم کیلئے فائدہ مند نظر آئی۔