نئی دہلی 5 ستمبر ( سیاست ڈا ٹ کام )امکان ہے کہ دہلی میں واحد بڑی جماعت بی جے پی کو تشکیل حکومت کیلئے مدعو کیا جائیگا کیونکہ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو ایک رپورٹ روانہ کی ہے اور ان سے اجازت طلب کی ہے کہ بی جے پی کو ریاست میں حکومت سازی کیلئے مدعو کیا جائے حالانکہ اس کے پاس وہاں حکومت بنانے کیلئے درکار اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ نجیب جنگ نے اپنی رپورٹ میں شہر میں سیاسی صورتحال کے تعلق سے ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ شہر میں ایک منتخبہ حکومت ہونی چاہئے ۔ دہلی میں اسمبلی معطل ہے اور 17 فبروری سے صدر راج نافذ کردیا گیا ہے ۔ یہاں عام آدمی پارٹی حکومت کی جانب سے استعفی کے بعد صدر راج نافذ کردیا گیا تھا ۔ لیفٹننٹ گورنر نے کہا کہ حالانکہ کسی بھی پارٹی نے حکومت سازی کا ادعا پیش نہیں کیا ہے لیکن بی جے پی کو اسمبلی میں واحد بڑی جماعت ہونے کی حیثیت سے میں حکومت بنانے کی دعوت دی جاسکتی ہے ۔ نجیب جنگ کا خیال ہے کہ تازہ انتخابات کے امکان پر غور کرنے سے قبل منتخبہ حکومت کے قیام کیلئے ہر امکان کا جائزہ لیا جانا اچہئے ۔ دہلی بی جے پی کے سربراہ ستیش اپادھیائے نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی کو حکومت سازی کی دعوت دی جاتی ہے تو پارٹی اس کا جائزہ لے گی ۔ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کی جانب سے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دئے جانے کی مخالفت کی گئی ہے اور ان کای کہنا ہے کہ گورنر کی جانب سے بی جے پی کو ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے عمل کا موقع دیا جا رہا ہے ۔