عام بجٹ … نام بڑے درشن چھوٹے
راجستھان … بی جے پی کا زوال،کانگریس کے اچھے دن
رشیدالدین
وزیر فینانس ارون جیٹلی نے ملک کا عام بجٹ پیش کردیا اور ہر شعبہ کی جانب سے بجٹ پر تبصرے کئے جارہے ہیں۔ ماہرین معاشیات ، صنعتی گھرانوں اور سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے انداز میں ردعمل کا اظہار کیا تو عام آدمی کا موقف ان تمام کے برخلاف رہا۔ عام آدمی کی ترقی، بھلائی اور خوشحالی کے نعروں پر اقتدار حاصل کیا گیا لیکن بجٹ کی تیاری کے وقت انہیں بھلادیا گیا۔ بی جے پی کو متوسط طبقات اور غریبوں کے ووٹ چاہئے لیکن اس کی جھولی میں ان طبقات کو دینے کیلئے کچھ نہیں۔ بولیوں اور جملوں کی مودی سرکار نے کچھ نئے جملے بجٹ میں عام آدمی کیلئے ادا کردیئے اور اسی کو احسان کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ قومی بجٹ کے تعلق سے عوام میں ہمیشہ تجسس دیکھا جاتا ہے۔ ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد حکومت کی مراعات اور رعایتوں کی امید وابستہ کرتے ہیں لیکن مودی حکومت کے تین برسوں میں بجٹ اپنی اہمیت اور کشش کھوچکا ہے۔ خاص طور پر 2018-19 ء بجٹ میں عوام کیلئے کوئی کشش باقی نہیں رہی۔ بجٹ کے ذریعہ اہم فیصلے کرنے کے بجائے بجٹ سے قبل ہی عوام پر اثرانداز ہونے والے فیصلے کئے گئے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ کے ذریعہ عوام کی کمر پہلے ہی توڑ دی گئی لہذا بجٹ میں مزید بوجھ کیلئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے عوام پر جو مار پڑی ہے، اس میں راحت کے بجائے حکومت نے زحمت کا اضافہ کردیا۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ عوام بوجھ اٹھانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد بجٹ کا بوجھ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ دونوں فیصلوں سے عوام کی معیشت پر کاری ضرب لگی ہے اور اس سے ابھرنے کیلئے شاید کئی سال درکار ہوں۔ حکومت نے جس طرح ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کرتے ہوئے ریلوے بجٹ کی انفرادیت ، اہمیت اور علحدہ شناخت کو ختم کردیا ہے، اسی طرح نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد عام بجٹ محض رسمی کارروائی کی طرح تھا۔ بجٹ محض اعداد و شمار کی ہیرا پھیری کے سواء کچھ نہیں۔ عوام کو معاشی بحران سے نجات دلانے کے بجائے بوجھ میں اضافہ کرتے ہوئے ٹیکس کے دلدل میں ڈھکیل دیا گیا۔ ہر سال ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار کا وعدہ محض انتخابی جملہ ثابت ہوا جس طرح ہر شہری کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے کے وعدہ کو امیت شاہ نے چناوی جملہ قرار دیدیا۔ چناوی جملوں اور مودی کے بولیوں کا اثر اب تک کسی بجٹ میں نہیں دیکھا گیا۔ اب صورتحال یہ ہوگئی کہ روزگار مانگنے پر نوجوانوں کو پکوڑے بیچنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ مودی گزشتہ تین سال میں ملک میں لگائی گئی پکوڑے کی ٹھیلہ بنڈیوں کو روزگار فراہمی کے کھاتے میں شامل کر رہے ہیں۔ اگر پکوڑے بیچنا روزگار کی فراہمی ہے تو پھر تین سال میں جتنے گداگروں کا اضافہ ہوا، اس کا کریڈٹ بھی مودی سرکار کو ملنا چاہئے کیونکہ گداگری بھی ایک پیشہ بن چکا ہے۔ بقول مودی پکوڑے والا دن میں 200 روپئے کماتا ہے تو پھر گداگر کی آمدنی تو اس سے زائد ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کے بجائے پکوڑے بیچنے کا مشورہ فرانس کی اس مہارانی کی طرح ہے جس نے بھوک مری کی شکار رعایا کو روٹی نہ ملنے پر کیک کھانے کا مشورہ دیا تھا ۔ اچھا ہوا نریندر مودی نے چائے والوں یعنی اپنی سابق برادری کا ذکر نہیں کیا، اگر ان کو بھی روزگار کی فراہمی کے دائرہ میں شامل کرلیا جائے تو روزگار کی فراہمی میں حکومت کے وعدہ کی تکمیل ہوجائے گی۔ پکوڑے بیچنا ہو یا چائے کی دکان یہ حکومت کی ناکامی کی علامت ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان جب روزگار سے محروم رہے تو پھر ان کے لئے کوئی اور متبادل نہیں رہتا۔ مودی نے دراصل اپنے جملوں کے ذریعہ ملک کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توہین کی ہے۔ اگر پکوڑے بیچنا ہی روزگار ہے تو پھر بی جے پی قائدین کے بچوں کو یہ مشورہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ بی جے پی صدر امیت شاہ کے فرزند جئے شاہ کو کمپنی کے قیام کے بجائے مودی کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے دیگر نوجوانوں کے لئے مثال بننی چاہئے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، مودی کی بولیاں اور جملے کھوکھلے ثابت ہونے لگے ہیں۔ عام بجٹ سے عوامی دلچسپی اس لئے بھی نہیں تھی کیونکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد مزید کسی مار کی ضرورت نہیں تھی ۔ عوام ابھی اس جھٹکے سے ابھر نہیں پائے کہ حکومت بینکوں میں موجود فکسڈ ڈپازٹس پر بری نظریں ڈال رہی ہیں۔ قانون سازی کے ذریعہ عوام کی خون پسینے کی کمائی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔ وہ تو میڈیا اور سوشیل میڈیا میں ہنگامہ کے بعد حکومت کو وضاحت کرنی پڑی لیکن اس طرح کی تجویز ابھی بھی برقرار ہے۔ عوام اگر خواب غفلت کا شکار رہیں تو کسی روز آدھی رات کو اچانک یہ اعلان ہوسکتا ہے کہ بینکوں کے تمام فکسڈ ڈپازٹس حکومت کے کھاتے میں جمع ہوچکے ہیں ۔ جس طرح نوٹ بندی کا اعلان اچانک رات میں کیا گیا اور چور دروازہ سے جی ایس ٹی لاگو کیا گیا، اسی طرح فکسڈ ڈپازٹس کی رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس فیصلہ کے لئے ملک کی ابتر معاشی صورتحال کا بہانہ بنایا جائے گا اور عوام کو منافع کا لالچ دیا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت میں اخلاقی جرات ہوتی تو بجٹ تقریر میں اس اسکیم کا تذکرہ شامل ہوتا۔ حکومت کو شاید کسی اچھے دن کا انتظار ہے۔ بینکوں میں نقدی کی کمی سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عوام اپنی جمع کردہ رقم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ بڑی رقم کی اجرائی سے بینک انکار کر رہے ہیں۔ اس طرح غیر محسوس طریقہ سے عوام پر معاشی تحدیدات عائد کردی گئیں۔ عوام کی محنت کی کمائی پر حکومت راج کرنا چاہتی ہے۔ عوام کے فکسڈ ڈپازٹس پر نظر جمانے سے قبل حکومت کالا دھن کی واپسی پر قوم کو جواب دے۔ ملک کے باہر سے کس قدر کالا دھن واپس لایا گیا۔ کالا دھن واپس لانا تو درکنار ملک کا خزانہ لوٹ کر فرار ہونے والے للت مودی اور وجئے مالیا کو ملک واپس لانے میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ کالا دھن رکھنے والوں پر کارروائی ہو تو عوام کے فکسڈ ڈپازٹ پر نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حکومت نے 10 کروڑ غریب خاندانوں کیلئے فی کس 5 لاکھ روپئے ہیلتھ انشورنس اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اگر عوام کو تعلیم ، روزگار اور آلودگی سے پاک ماحول اور ملاوٹ سے پاک غذائیں سربراہ کرنے کی ذمہ داری حکومت سنجیدگی سے نبھائے تو لوگ بیمار نہیں ہوں گے اور ہیلتھ انشورنس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
مرکزی بجٹ سے سیاسی مبصرین کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے امکانات دکھائی نہیں دیتے کیونکہ حکومت نے عوام کو خوش کرنے کیلئے کوئی غیر معمولی اعلان نہیں کیا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے معیشت پر جو کاری ضرب لگی ہے، اس کی تلافی کا کوئی اقدام بجٹ میں شامل نہیں۔ لہذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنی میعاد مکمل کرنا چاہتی ہے۔ بجٹ دراصل نام بڑے درشن چھوٹے کے مترادف ہے ۔ ارون جیٹلی جس وقت پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کر رہے تھے، اسی وقت راجستھان میں بی جے پی کے زوال کا عوامی فیصلہ منظر عام پر آرہا تھا۔ جیٹلی کے اعلانات پر نریندر مودی میز تھپتھپا رہے تھے لیکن ان کے اندر راجستھان کی شکست کا کرب صاف طور پر دکھائی دے رہا تھا۔ بجٹ کی پیشکشی کے دن راجستھان کی لوک سبھا کی دو اور اسمبلی کی ایک نشست کا بی جے پی سے چھین جانا مرکز کیلئے رنگ میں بھنگ کا کام کیا۔ بجٹ کی پیشکشی پر خوشی سے زیادہ راجستھان کی شکست کا غم ہر سطح پر واضح دکھائی دے رہا تھا ۔ 2014 ء میں بی جے پی نے راجستھان کی تمام 25 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ضمنی چناؤ میں کانگریس نے بھاری اکثریت سے دو لوک سبھا حلقوں کو چھین لیا ۔ اسی طرح اسمبلی حلقہ پر کامیابی حاصل کی۔ راجستھان کا نتیجہ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ ایک طرف یہ عام آدمی کی ناراضگی کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف فلم پدماوت کے خلاف راجپوت طبقہ کی برہمی کا ثبوت ہے۔ اجمیر لوک سبھا حلقہ میں دو لاکھ راجپوت رائے دہندے ہیں جنہوں نے بی جے پی حکومت سے اپنا بدلہ لے لیا ۔ جس طرح گجرات میں بی جے پی نے معمولی اکثریت سے اقتدار حاصل کیا ، اب راجستھان کے نتائج پارٹی کیلئے آئی اوپنر ہیں۔ عوامی فیصلہ صاف طور پر بی جے پی کے خلاف دکھائی دے رہا ہے اور گجرات کی ناراضگی کا تسلسل راجستھان میں ظاہر ہوا۔ کرناٹک میں بی جے پی کیلئے کامیابی کی راہ آسان نہیں ہے، جہاں سدا رامیا ہر طرح کے مقابلہ کے لئے تیار ہیں۔ آئندہ چند ماہ میں راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اسمبلی کے انتخابات ہیں۔ تینوں ریاستوں میں بی جے پی حکومت ہے اور راجستھان کے عوامی رجحان کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے اچھے دن کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کانگریس کیلئے پہلا امتحان کرناٹک میں رہے گا جہاں اسے اپنی حکومت کو بچانا ہے۔ اترپردیش کی طرح فرقہ وارانہ مہم کے ذریعہ بی جے پی کرناٹک میں ہندو ووٹ متحد کرنا چاہتی ہے، اس کے لئے یوگی ادتیہ ناتھ کو استعمال کیا جائے گا ۔ سنگھ پریوار میں جاری اختلافات اور خاص طور پر وی ایچ پی کے صدر پروین توگاڑیہ کی مرکزی حکومت اور مودی سے ناراضگی کے چلتے کرناٹک میں جارحانہ فرقہ پرست عناصر کو سازشوں کی تکمیل کا موقع نہیں ملے گا۔ گجرات میں حوصلہ افزاء مظاہرہ کے بعد کانگریس بھی نرم ہندوتوا کے ذریعہ ہندو ووٹ حاصل کرنے کا فن جان چکی ہے۔ عام بجٹ پر منور رانا کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
دھوپ وعدوں کی بری لگنے لگی ہے اب ہمیں
اب ہمارے مسئلوں کا کوئی حل بھی چاہئے