اسلام آباد ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب نے بھی بالآخر پاکستان کی جانب اپنی توجہ مرکوز کی ہے کیونکہ سعودی عرب اس بات کا خواہاں ہے کہ خطرناک ترین دولت اسلامیہ دہشت گرد گروپ سے نمٹنے کیلئے پاکستانی افواج ہی اہم رول ادا کرسکتی ہے کیونکہ سعودی عرب کی سرحدوں کو بھی ودلت اسلامیہ سے خطرات لاحق ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستانی افواج کی خدمات کے عوض ایک معاشی پیاکیج کی پیشکش بھی کی ہے۔ معروف اخبار ایکسپریس ٹریبون کے مطابق اس موضوع پر وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے گذشتہ ہفتہ سعودی عرب کے دورہ کے موقع پر بات چیت کی گئی تھی۔ نواز شریف کی سعودی عرب آمد پر ملک نئے بادشاہ شاہ سلمان نے ان کا انتہائی والانہ خیرمقدم کیا تھا۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہنوز تذبذب میں مبتلاء ہے کہ آیا سعودی عرب کی اس پیشکش کو منظور کیا جائے یا نہیں۔ پاکستان کے علاوہ شاہ سلمان اپنے انتہائی حلیف ممالک جیسے ترکی اور مصر سے بھی اسی نوعیت کے تعاون کے خواہاں ہیں تاکہ سعودی عرب کی سرحدات پر سیکوریٹی میں بے تحاشہ اضافہ کردیا جائے تاکہ دولت اسلامیہ سے لاحق خطرات ٹل جائیں۔ دوسری طرف ایک سینئر عہدیدار نے بھی بتایا کہ سیکوریٹی جیسے نازک موضوع پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت ہوئی ہے جس سے یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہیکہ سعودی عرب پاکستان سے فوجی امداد کا خواہاں ہے جس کے عوض سعودی حکمراں نے پاکستان کیلئے ایک انتہائی پرکشش معاشی پیاکیج کی پیشکش کی ہے جس میں کم اجرتوں پر پاکستان کو تیل کی سربراہی بھی شامل ہے۔ نواز شریف نے البتہ اس معاملہ پر سعودی عرب کو اپنی جانب سے کوئی قطعی تیقن نہیں دیا ہے کیونکہ پاکستان یہ نہیں چاہتا کہ سعودی عرب کو فوجی امداد کے بعد کوئی نیا تنازعہ پیدا ہوجائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ گذشتہ سال ستمبر میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے نمٹنے کیلئے سعودی عرب، دیگر خلیجی ممالک اور امریکہ نے ایک اتحادی فوج تیار کی ہے تاہم پاکستان نے انتہائی محتاط رویہ اپناتے ہوئے خود کو اس اتحاد کا حصہ نہیں بنایا تھا کیونکہ پاکستان کو اس بات کا اندیشہ ہیکہ اس کے اس اقدام سے اندرون ملک عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معتمد خارجہ اعزاز احمد چودھری نے بھی حال ہی میں سینیٹ پیانل برائے امورخارجہ کو معطل کیا تھا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف پاکستان کسی بھی بین الاقوامی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔