دبئی۔۔28 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے واضح کردیا ہے کہ آف اسپنرز کی مخصوص گیند ’ دوسرا‘ کو 15 ڈگری سے زائد پر بولنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور کوئی بھی بولر اسے مقررہ حد میں رہ کر ہی بولنگ کر سکتا ہے۔آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈرچرڈسن نے آئی سی سی ہیڈ کے کوارٹر میں میڈیا نمائندوں اور سابق ٹسٹ کرکٹروں سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مشکوک بولنگ ایکشن کے حامل بولروں کے خلاف کارروائی کے معاملے میں آئی سی سی امتیازی سلوک برت رہی ہے۔ڈیوڈ رچرڈسن نے اس بات کو بھی ماننے سے انکار کر دیا کہ آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی میں چونکہ ہندوستانی سابق ٹسٹ کرکٹر شامل ہیں لہذا وہ فیصلے کرتے ہوئے ہندوستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اگر ہربھجن سنگھ یا کوئی اور ہندوستانی بولر ’دوسرا‘ کر رہا ہوتا تو ان کے بولنگ ایکشن پر کبھی اعتراض نہ ہوتا۔رچرڈسن نے کہا کہ قوانین سب کے لئے یکساں ہیں اور قومیت سے قطع نظر کوئی بھی بولر مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آیا ہے اسے رپورٹ کیا جائے گا۔
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ مشکوک بولنگ ایکشن کے حامل بولروں کے خلاف کارروائی کیا ورلڈ کپ کے بعد نہیں ہوسکتی تھی؟ تو ان کا جواب تھا کہ یہ قدم فوری طور پر نہیں اٹھایا گیا ہے بلکہ کئی ماہ قبل اس بارے میں کافی سوچ بچار کیا گیا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ اور انڈر 19 کی سطح پر کافی بڑی تعداد میں ایسے بولر دکھائی دے رہے ہیں جن کے بولنگ ایکشن قواعد وضوابط کے برخلاف ہیں لہٰذا ان کے خلاف قدم اٹھایا جا رہا ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کرکٹ مکمل طور پر قوانین کے تحت کھیلی جائے۔یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس نے ورلڈ کپ سے قبل مشکوک بولنگ ایکشن والے بولروں کے خلاف کارروائی پر تنقید کی تھی اور اسے جلد بازی پر مبنی قرار دیا تھا۔
انہوں نے ڈی آر ایس کے بارے میں کہا کہ اس سے امپائروں کو صحیح فیصلے کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر یہ طریقہ کار اتنا ہی موثر ہے تو پھر بی سی سی آئی کو کیوں اسے استعمال کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکا ہے تو انھوں نے کہا کہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ یہ سمجھتا ہے کہ ڈی آر ایس صد فیصد درست نہیں اور وہ فیلڈ امپائروں کو تمام فیصلوں کے مجاز کے طور پر دیکھنا پسند کرتا ہے۔آئی سی سی کی جانب سے پاکستانی آف اسپنر سید اجمل، ویسٹ انڈیز کے عالمی شہرت یافتہ بولر سنیل نارائن، بنگلہ دیش کے سہگ غازی اور نیوزی لینڈ کے کین ولیمسن کے خلاف آئی سی سی نے جو پابندی عائد کر رکھی ہے، اسے ورلڈ کپ کے تناظر میں صحیح فیصلہ قرار نہیں دیا جارہا ہے جبکہ آئی سی سی کا موقف ہے کہ یہ فوری شروع کردہ کارروائی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک عرصہ سے مشکوک بولنگ ایکشن کے حامل بولروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا نتیجہ ہے۔