سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بہترین مثال : کانگریس ایم پی حسین دلوائی
نئی دہلی ۔ 2 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا میں کانگریس کے ایک رکن نے آج مطالبہ کیا کہ دلت مسلمانوں اور دلت کرسچینوں کو تحفظات فراہم کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ اس فیصلے کا حوالہ دیا کہ ایک شخص کو اس بنیاد پر ایس سی موقف دیا جاسکتا ہے کہ وہ ہندو ازم میں دوبارہ شامل ہوجائے اگر اس کے ساتھی اسے قبول کرلیں۔ راجیہ بسھا میں وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریس رکن حسین دلوائی نے مطالبہ کیا کہ دلت مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کو تحفظات فراہم کرنے دستور ہند میں ترمیم کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ 26 فبروری کو سپریم کورٹ نے ایک یصلے میں کہا کہ ایک شخص کو ہندو ازم میں دوبارہ شامل ہونے پر ایس سی موقف دیا جاسکتا ہے اگر اس کے ساتھی ذات والے اسے قبول کرلیں اور یہ ثابت ہوجائے کہ وہ یا اس کے اجداد ماضی میں کوئی اور مذہب قبول کرنے سے قبل اس ذات سے تعلق رکھتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو قانون کے مطابق فیصلہ پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا اور اب وقت آگیا ہے کہ اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ذات پات کا نظام کوئی مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی اور مذہب کو قبول بھی کرلیتا ہے تو اس کو دلت قرار دیئے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔