سڈنی۔ 12 فبروری۔(سیاست ڈاٹ کام) عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوئوں سے مقابلے کیلئے بغداد نے غیر ملکی افواج کے زمینی دستوں سے مدد طلب نہیں کی ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر براک اوباما کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ داعش کے خلاف فوجی آپریشنز کئے جائیں۔امریکی صدر نے انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں زمینی دستے بھیجنے کا اختیار فراہم کرنے کیلئے کانگریس پر زور ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی اسپیشل فورسز کو داعش کے رہنمائوں کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجنے سے نہیں ڈریں گے۔سڈنی میں موجود عراقی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی زمینی افواج ان کی حکومت کے منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔آسٹریلیائی ہم منصب جولی بشپ سے ملاقات کے بعد انھوں نے کہا : ’’ہم نے کبھی زمینی افواج کے تعاون کی بات نہیں کی ہے‘‘۔الجعفری نے کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے بین الاقوامی تعاون کیلئے ہدایات جاری کی ہوئی ہیں۔ ہماری ہدایات میں عراقی فوجیوں کو فضائی معاونت، ٹریننگ اور انٹلیجنس فراہم کرنا شامل تھا۔عراقی وزیر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو دئیے جانے والے پیغام میں عراق نے غیر ملکی افواج کے زمینی دستوں سے مدد کی درخواست نہیں کی تھی۔مگر انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایک بڑی جنگ کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔