خواتین اور مرد برابر نہیں ، ترک صدر اردغان کا تاثر

استنبول ۔ 24 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر ترکی رجب طیب اردغان نے آج کہا ہے کہ خواتین مردوں کے برابر نہیں اور ترکی میں خواتین کی آزادی کیلئے مہم چلانے والوں کو شدید تنقیدوں کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ماں کے بنیادی تصور کو مسترد کررہی ہیں۔ استنبول میں خواتین کے لئے انصاف کے موضوع پر چوٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام پسند صدر نے کہاکہ مرد اور خواتین کے درمیان حیاتیاتی فرق کا صاف مطلب ہے کہ وہ زندگی میں یکساں نوعیت کا کام نہیں کرسکتے ۔ ہمارے مذہب (اسلام ) نے سماج میں خواتین کے مقام و مرتبہ کی صراحت کردی ہے ۔ اسے جو سب سے اہم ذمہ داری دی گئی ہے وہ ماں کا بلند ترین مقام ہے ۔ طیب اردغان جن شرکاء سے مخاطب تھے اُن میں ترکی کی خواتین کے علاوہ اُن کی بیٹی سمیہ بھی موجود تھیں۔ انھوں نے کہاکہ بعض لوگ اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں لیکن دیگر بالکل نہیں سمجھتے ۔ خواتین کے حقوق کے نام پر مہم چلانے والوں کو اس حقیقت کی وضاحت نہیں کی جاسکتی کیوں کہ وہ ماں کے بنیادی تصور کو قبول نہیں کرتے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں اپنی ماں کے قدم چوم سکتا ہوں ، کیونکہ یہاں سے جنت کی خوشبو آتی ہے ۔ وہ کبھی خوشی سے سرشار ہوتی ہے اور کبھی رودیتی ہے ‘‘۔ ماں کا مقام و مرتبہ کچھ اور ہی ہے ۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ مرد اور خواتین کے ساتھ یکساں سلوک بھی نہیں کیا جاسکتا ، کیوں کہ یہ فطرت انسانی کے خلاف ہے ۔ اُن کے عادت و اطوار ، جسمانی ساخت اور اُن میں پائی جانے والی خصوصیت سب مختلف ہیں۔ آپ ایک بچہ کو دودھ پلاتی ہوئی ماں کا تقابل کسی مرد کے ساتھ نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح آپ ہر قسم کا کام جو مرد انجام دیتے ہیں ، عورتوں کو اُس کیلئے مجبور نہیں کرسکتے ، جیسا کہ کمیونسٹ دور میں ہوتا تھا ۔ ہم خواتین کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ گھروں سے باہر نکلے اور محنت و مشقت کریں ۔ یہ صنف نازک کی فطرت کے خلاف ہے ۔ انھوں نے عالمی جنگ دوم کے دورن اور اُس کے بعد کمیونسٹ ممالک جیسے سویت یونین میں خواتین کے ساتھ اختیار کئے جانے والے رویہ کا بار بار حوالہ دیا جہاں اُن سے فیکٹریز میں بھاری مشقت لی جاتی تھی یا پھر اُنھیں بڑی گاڑیوں کا ڈرائیور بنایا جاتا تھا ۔