کریم نگر۔/14جون، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) لوک سبھا کے اجلاس میں خلیج کے متاثرین کے تعلق سے مرکزی وزراء کے علم میں لایا جاچکا ہے، کریم نگر ضلع حلقہ پارلیمنٹ کے ایم پی بالکا سمن نے اس بات سے واقف کروایا۔ بروز جمعہ مقامی اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے مسائل، پولاورم آرڈیننس کی اجرائی کو رد کرنے اور بیاس ندی سے طلباء کی نعشوں کو باہر نکالے جانے اور دیگر مسائل کو موضوع بحث لایا گیا ہے۔ شمالی تلنگانہ اضلاع میں ملازمتوں اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بیروزگار افراد خلیجی ممالک کا رُخ کررہے ہیں اور وہاںیہ پریشان حال افراد جن مشکلات کاسامنا کررہے ہیں اس پر تشویش کا اظہار کیا ان تمام حالات سے مرکزی وزیر سشما سوراج کو بہتر انداز میں واقف کروایا گیا۔ دونوں ایم پیز بالکاسمن اور ونود کمار نے رکن پارلیمان نظام آباد کویتا کے ساتھ مل کر سشما سوراج سے کافی دیر تک بات چیت کی اورمطالبہ کیا کہ وزیر خارجہ کی جانب سے ضلع میں غیر ملکی مسائل کی یکسوئی اُمور کیلئے اقلیت شعبہ قائم کیا جانا چاہیئے تاکہ خلیج میں اگر کسی کے ساتھ ناانصافی اور دھوکہ دہی ہوتو ان کی مالی امداد ہونی چاہیئے جس کے کارپس فنڈ مختص کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ان تمام معاملات پر سنجیدگی سے غور و فکرکرنے کا سشما سوراج نے وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پولاورم آرڈیننس موضوع بحث آیا ہم نے شدت کے ساتھ اسے منسوخ کرنے کیلئے احتجاج کیا جس کی وجہ سے اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ لاکھوں گریجن خاندان کی زندگی برباد کرنا مناسب نہیں ہے اس کے لئے پراجکٹ کے ڈیزائن کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ موجودہ پلان میں ترمیم کرکے تعمیر کی جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہماچل پردیش کی بیاس ندی کے بہاؤ میں جو طلباء و طالبات فوت ہوگئے اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریونیو منسٹر کے ساتھ ملاقات کی گئی اور نعشوں کی تلاش کر کے ورثاء کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنگارینی ملازمین کو آئی ٹی سے مستثنی رکھا جائے اور ایف سی آئی کو دوبارہ کھولتے ہوئے اسے کارکرد بنانے کے سلسلہ میں متعلقہ وزراء سے ملاقات کرکے بات چیت کی جائے گی۔کچھ مسائل کی یکسوئی کیلئے ریاستی اسمبلی میں قراردادوں کی منظوری کیلئے کے سی آر سے خواہش کی جائے گی۔