پرنس محمد بن سلمان نے شاید قتل کا حکم دیا اور شاید نہیں دیا، امریکی صدر کا ریمارک
ریاض ، 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی شراکت داری کو دگنی کرتے ہوئے اسے ایک جرنلسٹ کے سفاکانہ قتل کے باوجود ناگزیر حلیف قرار دیا ہے، لیکن نقادوں کا کہنا ہے کہ اُن کا موقف واشنگٹن کے ریاض پر زبردست اثر کو نظرانداز کررہا ہے۔ منگل کو ٹرمپ نے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کو جمال خشوگی کے قتل پر عملاً کلین چٹ دیتے ہوئے سنٹرل انٹلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے مبینہ قطعی نتیجہ سے صرفِ نظر کردیا کہ سلطنت کے فی الواقعی حکمراں نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔ ’’شاید اُس نے ایسا کیا اور شاید اُس نے ایسا نہیں کیا!‘‘ ٹرمپ نے یہ ریمارک کیا، جس کا یہ مطلب ہے کہ پرنس محمد کے 2 اکٹوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں پیش آئے خشوگی کے قتل میں قابل مواخذہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔ انھوں نے ادعا کیا کہ اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ حریف ایران کے خلاف حفاظتی آڑ کے طور پر خلیجی مملکت کا کیا رول رہتا ہے، امریکہ میں اس کے کئی بلین ڈالر کی سرمایہ کاریوں کا کیا ہوتا ہے جن میں اسلحہ کی کئی معاملتیں شامل ہیں اور تیل کی عالمی قیمتوں کے بارے میں اس کی گرفت کا کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ عمومی طور پر اپنے موقف کیلئے نقادوں کی نکتہ چینی کا نشانہ بنتے ہیں جسے وہ تاجرانہ ترجیحات قرار دیتے ہیں جس نے انھیں تیل کی دولت سے مالامال سلطنت کیلئے تائید و حمایت جٹانے والی شخصیت بنادیا ہے، جس سے سعودی عرب کے خلاف سخت کانگریسی کارروائی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ٹرمپ کی عالمی برہمی کے باوجود سلطنت کو ٹھوس حمایت نے اس بات کو ٹھوس شکل دی ہے جو ریاض میں اکثر عہدیداران کہتے ہیں کہ امریکہ۔ سعودی رشتہ اس قدر بڑا ہے کہ ناکام ہونا محال ہے۔ واشنگٹن میں عرب گلف اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ اسکالر حسین عبیش نے کہا کہ انٹلیجنس، انسداد دہشت گردی تعاون اور توانائی کے شعبوں میں وسیع تر روابط واقعی اس قدر بڑے ہیں کہ ناکام ہونا مشکل ہے بلکہ ان کیلئے جوکھم پیدا ہونا بھی محال ہے۔