خشوگی قتل مقدمہ کے پس منظر میں سعودی کابینہ میں ردوبدل

دوبئی 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ملک سلمان نے وسیع پیمانے پر اعلیٰ سرکاری عہدوں میں ردوبدل کیا ہے۔ نئے وزیر خارجہ کو نامزد کیا گیا۔ اِس کا پس منظر سعودی صحافی و مصنف جمال خشوگی کا تین ماہ قبل قتل کا واقعہ ہے۔ اُنھوں نے حکم دیا کہ مملکت کی دو سپریم کونسلوں میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا جائے اور معیشت و صیانت سے متعلق اُبھرنے والے مسائل کی عاجلانہ بنیادوں پر یکسوئی کی جائے۔ دونوں کونسلوں کے سربراہ ملک کے فرزند ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔ جن کے اختیارات بشمول نائب وزیراعظم و وزیر دفاع اِس ردوبدل میں تبدیل نہیں کئے گئے۔ یہ تبدیلیاں ولیعہد شہزادہ کی اقتدار پر گرفت اور بھی مضبوط کردیں گی۔ وہ شاہی خاندان کے افراد کو جو اُن سے قریب ہیں، بحیثیت مشیر مقرر کریں گے۔ نرم گفتار وزیر خارجہ عادل الزبیر جنھوں نے 2015 ء میں وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالا تھا اور شہزادہ سعود الفیصل مرحوم کے جانشین ابراہیم الآصف مقرر کئے گئے تھے جو ایک طویل عرصہ سے وزیر فینانس تھے۔ الزبیر کا تقرر وزیر مملکت برائے اُمور خارجہ کی حیثیت سے ہوا تھا۔ قبل ازیں وہ وزیر مملکت کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔