خانہ پور میں فرقہ پرستوں کے حملہ میں 3 نوجوان زخمی

خانہ پور ۔ 17 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) خانہ پور میں اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں نے مسلم نوجوانوں پر اپنی سلاخوں اور لاٹھیوں سے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا۔ ہندو شرپسند عناصر کے خلاف مسلم قائدین و کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج کیا۔ تفصیلات کے بموجب کل رات 9 بجے ایم ایم علی ٹاور کے قریب اکثریتی فرقہ کے 8 تا 10 نوجوانوں نے 3 مسلم نوجوانوں شیخ افروز ولد شیخ معین، شیخ احمد ولد شیخ معین، شیخ الطاف ولد اکبر حسین پر سلاخوں اور لاٹھیوں سے حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کردیا اور راہ فرار اختیار کی۔ مسلم نوجوانوں پر حملہ کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح سارے خانہ پور میں پھیل گئی۔ اطلاع کے ساتھ ہی مختلف جماعتوں کے مسلم قائدین و کارکنوں نے رات 10 بجے احتجاجی ریالی منظم کی اور پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج منظم کیا۔ احتجاجیوں نے حملہ آور شرپسند عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر سرکل انسپکٹر خانہ پور نریش کمار نے سب انسپکٹر آف پولیس اجئے بابو کو فوری ہدایت دی کہ اس سلسلہ میں فوری شکایت درج کرلی جائے۔ اس تیقن پر برہم احتجاجیوں نے رات 11.30 بجے اپنا احتجاج ختم کیا۔ اس موقع پر سب انسپکٹر آف پولیس اجئے بابو نے مسلم قائدین اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نقص امن پیدا کرنے والوں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی ذات یا فرقہ سے ہو۔ چاہے وہ سماج میں کتنا ہی بااثر ہو شرپسندی و غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے پولیس جوانوں کو ہدایت دی کہ وہ پولیس طلایہ گردی میں شدت پیدا کردیں۔ رات کے اوقات میں چار سے زائد نوجوان ایک جگہ جمع نہ ہوں ان پر سخت کارروائی کی جائے گی اور پولیس جوانوں کو ہدایت دی کہ وہ 9 بجے رات سے ہی پٹرولنگ شروع کرے۔ ایس آئی اجئے بابو نے مسلم قائدین کو تیقن دیا کہ وہ شرپسند حملہ آور کو فوری گرفتار کرکے ان پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیں گے۔ اس موقع پر حملہ میں زخمی نوجوان شیخ افروز نے بتایا کہ اے رویندر، اے مدھو، ارون نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ان پر حملہ کردیا۔ افروز نے بتایا کہ وہ خانہ پور میں آج سے آغاز ہونے والے والی بال ٹورنمنٹ کے سلسلہ میں اپنے دوستوں سے مشورہ کررہے تھے اچانک ان پر حملہ کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہیکہ اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں نے کچھ ماہ قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور یہ نوجوان مسلم نوجوانوں پر حملہ کے منصوبہ بنارہے ہیں۔ احتجاجی پروگرام میں ٹی آر ایس قائدین محمد ظہیر الدین، محمد وقار رکن بلدیہ خانہ پور، شیخ نصیر احمد، محمد عرفان الدین، سید لطیف علی، تلگودیشم قائدین شبیر پاشاہ، نعیم خان، محمد سجاد علی، شعیب حسین، زبیر کے علاوہ مسلم نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ بعدازاں زخمی نوجوانوں کو سرکاری دواخانہ میں طبی امداد پہنچائی گئی اور ڈاکٹروں نے بتایا کہ افروز اور دیگر کو اسکیاننگ کی ضرورت ہے اسے نظام آباد یا حیدرآباد منتقل کرنا ہوگا۔ ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر اس کیس کو ریفر کردیا۔