نظام آباد:17؍ مارچ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی حکومت کے قانون حق تعلیمات کے تحت خانگی مدارس میں 25 فیصد طلباء کو مفت داخلہ کے مرکزی حکومت کے فیصلہ سے سرکاری مدارس کا مستقبل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ غریب طلباء کو مفت میں خانگی مدارس میں تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے مرکزی حکومت نے قانون حق تعلیمات 2010 سیکشن 12(C) کے مطابق خانگی مدارس میں 25 فیصد مفت میں تعلیم فراہم کرنے کا مرکزی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا تھااور سابق میں اس فیصلہ کی عمل آوری پر حکومت خاموشی اختیار کی ہوئی تھی لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی حکومتوں پر مسلسل دبائو کے باعث سرکاری مدارس کا مستقبل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ خانگی مدارس میں غریب طلباء کو فیس ریمبرسمنٹ کے تحت جسمانی معذورین، یتیم اور ایچ آئی وی سے متاثرہ طلباء کو 5 فیصد، ایس سی طبقات کیلئے 10 فیصد، ایس ٹی کیلئے 4 فیصد، 60 ہزار سے کم آمدنی والے طبقات کو 6 فیصد داخلہ خانگی مدارس میں دینے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے فیصلہ دیا گیا۔ سابق میں اس فیصلہ کی عمل آوری کرنے سے ریاستی حکومت خاموشی اختیار کی ہوئی تھی کیونکہ خانگی مدارس میں 25 فیصد غریب طلباء کو داخلہ دینے کی صورت میں سرکاری مدارس میں طلباء کی تعداد مزید گھٹ جائے گی اور اس پر اساتذہ کی تنظیموں نے بھی اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ اس کے علاوہ ان طلباء کو فیس ریمبرسمنٹ کے تحت فراہم کئے جانے والی فیس ریاستی حکومتوں کو برداشت کرنے کیلئے احکامات جاری کئے تھے لیکن حکومت کی تبدیل کے بعد مرکزی حکومت اس پر عمل آوری کیلئے ریاستی حکومت پر دبائو ڈالنے کی اطلاع ہے جس کی وجہ سے سرکاری مدارس کے مستقبل کو لیکر حکومت کی جانب سے پریشانی ظاہر کی جارہی ہے۔ پرائمری سطح کے طلباء کو ایک کلو میٹر کے اندر اپر پرائمری سطح کے طلباء کو تین کلو میٹر کے اندر مدرسہ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے بارے میں کوئی غور نہیں کیا گیا اس کے علاوہ ہر مدرسہ میں ایک ٹیچر کا ہونا لازمی ہے اور ہر 30 طلباء پر ایک ٹیچر کا مقرر کرنا بھی لازمی ہے لیکن حکومت اس کی عمل آوری میں تساہلی برتنے کی وجہ سے موجودہ تلنگانہ حکومت نئے قواعد کو ترتیب دینے کیلئے سرگرم ہوگئی ہے اور مرکزی قانون حق تعلیم کے تحت25 فیصد فراہم کرنے کی بھی اطلاع ہے۔ مختلف کالونیوں میں واقع مدارس کا جائزہ لیتے ہوئے ان تمام مدارس کو ملاکر ایک مقام پر مدرسہ قائم کرنے کیلئے بھی غور کیا جارہا ہے اگرحکومت اس طرح کرنے کی صورت میں ریاست بھر میں پانچ ہزار اسکول بند ہونے کے بھی امکانات ہیں۔ اگر مرکزی حکومت کے احکامات کے مطابق ایک کلو میٹر کے اندر پرائمری اسکول، تین کلو میٹر کے اندر اپر پرائمری اسکول نہ ہونے کی صورت میں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ان تمام چیزوں پر حکومت کی جانب سے جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کئے جانے کے بھی امکانات ہیں۔ مرکزی حکومت کے فیصلہ کے مطابق عمل کیا گیا تو سرکاری مدارس کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ موجودہ دور میں ہر شخص اپنے بچوں کو خانگی مدارس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کا خواہاں ہے جبکہ سرکاری مدارس میں انتہائی غریب طبقہ تعلیم حاصل کررہا ہے اگر ان طلباء کو خانگی مدارس میں منتقل کرنے کی صورت میں سرکاری مدارس میں طلباء کی تعداد گھٹ جائے گی اور سرکاری مدارس کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگا۔ اس بارے میں اساتذہ کی تنظیمیں سے دریافت کرنے پر اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس کا از سرے نو جائزہ لینے کا اور خانگی مدارس میں غیر تربیتی یافتہ اساتذہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور حکومت ایک طرح سے خانگی مدارس کی ہمت افزائی کررہی ہے۔