خارجی رختِ سفر باندھنے لگے

کے این واصف
سعودی عرب میں خارجی باشندوں کے حق میں چل رہے’’موسم خزاں‘‘ کے دوران پچھلے ہفتہ ایک اچھی خبر آئی جو یہاں بقالے (Grossry Stores) چلانے والوں کے حق میں ہے۔ بقالے چلانے والوں کو حکومت نے سعودی باشندے کی کفالت حاصل کرنے کے لزوم سے چھٹکارا دلانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بقالے چلانے والوں کو ان کے کاروبار کیلئے انہی کے نام لائنس جاری کرنے کی اگر یہ تجویز قبول کرلی گئی تو سعودی عرب میں بسنے والے خارجی باشندوں کی اکثریت تو یہاں ملازمت پیشہ ہے لیکن کچھ لوگوں نے یہاں کسی سعودی کفالت میں اپنے کاروبار بھی لگا رکھے ہیں جن میں بڑے ، متوسط اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار شامل ہیں۔ ایسے لوگ وطن میں جن کے اپنے کاروبار تھے ان کی ایک بڑی تعداد نے یہاں بقالے قائم کئے ۔ ان میں کچھ نے تو بہت زیادہ ترقی کی اور اپنے چھوٹے بقالے کو بڑے سوپر اور ہائپر مارکٹس میں تبدیل کردیا لیکن جن کی قسمت نے یاوری نہیں کی یا وہ اتنی اونچائیوں تک پہنچ نہیں پائے، وہ برسوں سے اپنے کاروبار ٹھیک ٹھاک انداز میں چلا رہے ہیں اور اچھے یا بہت اچھے پیمانے پر اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ مگر ان کا یہ کاروبار سعودی کے نام ہی رہتا ہے ۔ وہ سو فیصد سرمایہ لگاکر بھی اس کے مالک نہیں کہلاتے لیکن اب حکومت سعودی عرب نے ان کے حق میں ایک اچھا فیصلہ کرتے ہوئے اب بقالے کالائسنس ان ہی کے نام جاری کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ 5 برس سے زائد عرصہ سے اپنا بقالہ چلانے والے تارکین وطن کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے ۔ تجویز میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انہیں 3 برس کا آزاد اقامہ دیا جا ئے گا ۔ بشرطیکہ وہ 5 برس سے زیادہ عرصہ سے سعودی عرب میں اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہے ہوں۔ یہ اور ان جیسی دیگر تجاویز چھوٹے اور درمیانی درجے کے اداروں کی پاسبان اتھاریٹی نے بقالوںکی سعودائزیشن کیلئے 10 نکاتی منصوبے میں تجویز پیش کی ہیں۔ 6 ماہ میں تدریجی طور پر یہ نافذکیا جاسکتا ہے ۔ اس کے تحت ریٹیل کے شعبہ پر انحصار کیا جائے گا ۔ سعودیوں اور غیر ملکیوں کے درمیان شراکتی معاہدے ہوں گے ۔ تجاویز کا مقصد سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کا انسداد ادارہ سعودیوں کو بڑھ چڑھ کر کاروبار میں حصہ لینے کی رغبت دلانا ہے۔ بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانی درجے کے 10 لاکھ اداروں سے قومی معیشت کو سالانہ 3 کھرب ریال تک حاصل ہوسکیں گے۔10 نکاتی پروگرام میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ بقالوں میں اصلاحات لائی جائیں۔
گو کہ اس اعلان میں بات بہت زیادہ واضح نظر نہیں آئی، بس یہ بات صاف ہوئی کہ ہر انفرادی غیر ملکی جو بقالہ چلاتا ہے ، ان کے نام بقالے کا لائسنس جاری کردیا جائے گا جس کی مدت تین سال رہے گی ۔ زیادہ تفصیلات اور شرائط وغیرہ نہیں دیئے گئے ۔ ہاں اس عمل سے حکومت کے پاس یہ تفصیل آجائے گی کہ مملکت بھر میں کتنے بقالے ہیں جو غیر ملکی چلاتے ہیں لیکن تین سال بعد کیا ان لائسنس یافتہ بقالے والوں کا کیا بنے گا یہ واضح نہیں ہوا۔
سعودی عرب میں بقالے پر کوئی نصف صدی سے غیر ملکی قابض ہیں اور پچھلے کوئی بیس (20) سال سے حکومت اس شعبہ میں مکمل سعودائزیشن چاہتی ہے لیکن ایسا ہو نہیں پایا۔ اس کی وجہ شاید خود مقامی باشندوں نے اس کاروبار میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس کی وجہ اس کاروبار کی لمبی ڈیوٹی اوقات اور بغیر کسی چھٹی کے کام کرنا ہوسکتا ہے۔ خارجی باشندوں کو لائسنس جاری کرنے سے مقامی باشندوں کی آمدنی بند ہوجائے گی تو شاید وہ اس کاروبار کی طرف راغب ہوں یا کم از کم خارجی باشندوں کے ساتھ شرکت داری پر آمادہ ہوجائیں۔ اسی طرح یہاں بے شمار چھوٹے پیمانے کے ریسٹورینٹس ، لانڈریز، اصلاح خانے میکانیکل ورک، پاپس وغیرہ بھی سارے کے سارے غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ پتہ نہیں ان کاروباروں کے بارے میں حکومت کا کیا پروگرام ہے۔

دوسری جانب غیر ملکیوں کے اطراف گھیرا تنگ کرنے کا سلسلہ اپنی جگہ جاری ہے ۔ اس میں خارجیوں کو بڑا جھٹکا سعودیوںکیلئے مختص کئے جانے والے پیشوں کی فہرست میں اضافہ کیا جانا ہے ۔ وزارت محنت و سماجی بہبود نے حال میں مزید 12 شعبوں میں سعودائزیشن کے احکامات صادر کردیئے ہیں۔ ان تجارتی شعبوں میں غیر ملکیوں کی جگہ سعودی مرد اور خواتین کو روزگار فراہم کیا جائے گا ۔ سعودائزیشن کا آغاز نئے ہجری سال سے ہوگا ۔ مزید سعودائزیشن کیلئے مختص کئے جانے والے شعبوں میں Cash Counters پر سعودیوں کو متعین کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ سیلز سے متعلق تمام امور جن میں سیلزمین ، کیاشرز اور سوپروائزر بھی سعودی ہوں گے۔ سعودائزیشن کیلئے مخصوص کئے جا نے والے تجارتی شعبوں کے حوالے سے ترجمان وزارت محنت کا کہنا تھا کہ گھڑیاں ، چشمے ، الیکٹرانک آلات ، بجلی کے آلات ، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے اسپیر پارٹس فروخت کرنے والی دکانیں ، سینیٹری کا سامان فروخت کرنے والے ، قالین اور تمام اقسام کے فروخت کرنے والے مراکز و دکانیں گھریلو اور آفس فرنیچر شورومس اور دکانیں ، ریڈی میڈ گارمنٹس جن میں بچوں کے کپڑے فروخت کرنے والی دکانیں شامل ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا تھا کہ وزارت کی جانب سے سعودائزیشن کیلئے صادر فیصلوں کے بارے میں مملکت کی تمام گورنریٹس کو مفاہمتی یادداشت ارسال کردی گئی ہیں جن میں یہ تمام تفصیلات درج ہیں۔ اس ضمن میں وزارت و سماجی بہبود کے دیگر اداروں کی جانب سے تفتیشی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی جو ان فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی ۔ واضح رہے کہ سعودائیزیشن یکم محرم1440 ھ سے شروع ہوگا جس میں بجلی اور الیکٹرانک آلات ، گھڑیوں کی دکانیں اور طبی اور شمسی چشمے فروخت کرنے والی دکانیں شامل رہیں گی ۔ تیسرے مرحلے کا آغاز سال ہجری کے پانچویں مہینے سے ہوگا جس میں طبی آلات فروخت کرنے والے شورومس ، سینیٹری اور تعمیرات کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں ، گاڑیوں کے اسپیر پارٹس ، قالین اور مٹھائی فروش شامل رہیں گے ۔ جن شعبوں کو سعودی باشندوں کیلئے مختص کیا گیا ہے ان پر محکمہ لیبر کی گہری نگاہ رہے گی کہ آیا خانگی اداروں نے ان پر عمل کیا ہے کہ نہیں ۔ اس سلسلے میں تفتیشی ٹیمیں خانگی اداروں کے دورے کرے گی ۔ سعودی باشندوں کیلئے مختص آسامی پر اگر کوئی غیر ملکی باشندہ کام کرتا ہوا پایا گیا تو اس ادارے کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا ۔ نیز خارجی باشندے اپنے اقامہ میں درج پروفیشن کے علاوہ ادارے میں کوئی اور کام کرتا ہوا پایا جائے گا تو یہ بھی لیبر قوانین کی عدم پابندی مانتے ہوئے ادارے پر بھاری جرمانہ کیا جائے گا ۔ ہم یہاں لوگوں کو متنبہ کرنا چاہیں گے کہ اب نوجوان ’’آزاد ویزا‘‘ جو عام طور پر ’’عامل‘‘ (لیبر) یا کچھ اور پروفیشن کے ہوتے ہیں ایسے آزاد ویزے خریدنے سے گریز کریں۔ آزاد ویزے خریدنے اور بیچنے کا رواج ہندوستان میں ز یادہ ہے۔ پڑھے لکھے لوگ برسوں سے ایسے ویزے خرید کر آتے تھے اور اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت حاصل کرلیتے تھے اور اقامہ میں پروفیشن تبدیل کئے بغیر ملازمت کیا کرتے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں رہا کیونکہ اب آپ جو کام کریں گے آپ کا اقامہ میں وہی پروفیشن درج ہونا چاہئے ورنہ آپ لیبر قوانین کے عدم پابندی کے الزام میں دھر لئے جائیں گے ۔ اب بہت سے لوگ پیشے میں تبدیلی کیلئے وزارت سے رجوع ہورہے ہیں۔ حال میں وزارت محنت کے جاری پریس نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31 ممالک کے 2605 کارکنان نے 98 پیشوں پر نقل کفالہ کی درخواستیں دی ہیں۔ یہ اندراج سعودی لیبر مارکٹ میں موجود کارکنان نے کرایا ہے ۔ وزارت محنت نے حال ہی میں مملکت میں موجود کارکنان کو نقل کفالہ اور پیشوں میں تبدیلی کیلئے آن لائین کارروائی کا موقع فراہم کیا تھا ۔ وزارت چاہتی ہے کہ جو نجی ادارے باہر سے کارکن لانے کیلئے ویزوں کی درخواستیں دے رہے ہیں، انہیں مملکت میں موجود غیر ملکی کارکنان کی خدمات ترجیحی بنیادیوں پر حاصل کرنی چاہئے ۔اگر مطلوبہ ویزوں کیلئے مطلوب افراد مملکت میں مہیا ہوتے ہیں تو ا یسی صورت میں باہر کیلئے ویزے جاری نہیں کئے جائیں گے ۔ وزارت محنت کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے ۔اس سے ہزاروں خارجی باشندوں کا فائدہ ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اتنے زیادہ پیشہ سعودی باشندوں کیلئے مختص کردیئے گئے ہیں کہ اب پیشے کی تبدیلی بھی دشوار ہوگئی ہے ۔ ایسی صورت میں خارجی باشندوں کا یہاں اپنی ملازمت کا جاری رکھ پانا مشکل ہوگا ۔ نہ ادارے لیبر قوانین کی پابندی کئے بغیر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں گے اور اگر اداروں کو اپنا کاروبار جاری رکھنا ہے تو لا محالہ تمام آسامیاں جو سعودیوں کیلئے مختص ہیں ان پر سعودی باشندوں سے ہی پر کرنا پڑے گا ۔ ادھر سعودی مجلس شوریٰ نے اپنے حالیہ اجلاس میں مقامی باشندوں کیلئے مختص شعبوں سے منسلک غیر ملکیوں کو جلد بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ارکان پچھلے ہفتہ شوریٰ وزارت و سماجی فروغ کی سالانہ مالیاتی رپورٹ پر بحث کر رہے تھے ۔ ایک رکن شوریٰ نے مذکورہ مطالبہ میں اس امر کا بھی اضافہ کیا کہ سعودیوں کیلئے مختص شعبوں سے منسلک غیرملکیوں کو نقل کفالہ کی اجازت نہ دی جائے ۔ ایک رکن نے کہا کہ وزارت محنت آئندہ عشرے کے لیبر مارکٹ کے تقاضے پورے کرنے پر توجہ مرکوز کرائی اور کہا کہ فرزندان وطن کو ملازمت کا محفوظ اور پسندیدہ ماحول پیش کیا جائے ۔ ایک اور رکن شوریٰ نے استفسار کیا کہ آخر بعض ممالک کے شہری مخصوص پیشوں اور آسامیوں پر کیونکر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ ان کی جگہ سعودیوں کی تقرری کو یقینی بنایا جائے اور غیر ملکیوں کی اجارہ داری توڑنے والی حکمت عملی تیار کی جائے ۔

بہرحال یہاں کوئی غیر ملکیوں کو مملکت سے چلے جانے کی راست بات نہیں کر رہا ہے بلکہ نئے لیبر قوانین انہیں اس قدر جکڑ رہے ہیں کہ نہ آجر کام کرسکتا ہے نہ اجیر انہیں اپنے پاس مزید کام پر رکھ سکتا ہے۔ اس لئے کہ کس کمپنی میں خارجی باشندوں کی ملازمت کو جاری رکھنا اتنا مہنگا ہوجائے گا کہ کمپنی خارجی باشندوں کی جگہ مقامی افراد کو رکھنے پرمجبور ہوجائے گی ۔ ان حالات میں سعودی عرب میں مقیم خارجی باشندے جنہوں نے یہاں کئی کئی دہائیاں گزاردیں، مملکت سعودی عرب جسے وہ اپنا وطن ثانی تصور کرتے تھے وہاں سے اب رختِ سفر باندھنے کا وقت آگیا ۔ نئے ہجری سال کے شروع ہوتے سعودی عرب کا کیا منظر ہے اس کے تصور سے خارجی باشندے خوف زدہ ہیں۔ خصوصاً ایسے لوگ جنہوں نے ایک لمبا وقت یہاں گزار دیا اور اب عمر کے ایسے حصہ میں ہیں جہاں نئی منزلیں تلاش کرنا بھی ممکن نہیں ۔