حیدرآباد ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سن رائزس حیدرآباد کی ٹیم رواں آئی پی ایل کے ساتویں ایڈیشن میں 10 مقابلوں میں شرکت کے بعد 4 فتوحات کے ذریعہ ٹیموں کے جدول میں پانچویں مقام پر فائز ہے لیکن ٹورنمنٹ کے آئندہ مرحلہ میں رسائی کیلئے اسے مشکل ترین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ سرفہرست 4 ٹیمیں ٹورنمنٹ کے اگلے مرحلہ پلے آف میں رسائی حاصل کریں گی۔ پلے آف میں رسائی کیلئے پہلے مقام پر فائز کنگس الیون پنجاب اور مہیندر سنگھ دھونی کی یٹم چینائی سوپر کنگس کے بعد تیسرے مقام کیلئے شین واٹسن کی زیرقیادت راجستھان رائلس مضبوط دعویداروں میں شامل ہوچکے ہیں لیکن چوتھے اور آخری مقام کیلئے سن رائزس حیدرآباد کا سخت مقابلہ سابق چمپیئن کولکتہ نائیٹ رائیڈرس اور رائل چیلنجرس بنگلور کے ساتھ ہے حالانکہ حالیہ چند مقابلوں میں سن رائزس حیدرآباد کو امکانی کامیابی گنوانی پڑی ہے۔
سن رائزس حیدرآباد نے گذشتہ دو مقابلے اپنے گھریلو میدان اپل کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے ہیں جہاں خصوصاً کنگس الیون پنجاب کے خلاف کھیلے گئے گذشتہ مقابلہ میں 200 سے زائد رنز اسکور کرنے کے باوجود اسے شکست برداشت کرنی پڑی ہے۔ پنجاب کے خلاف 18 ویں اوور تک بھی سن رائزس حیدرآباد کو کامیابی حاصل کرنے کا موقع دستیاب تھا لیکن حیدرآباد کے فاسٹ بولر ڈیل اسٹین جو کہ دنیا میں نمبر ایک فاسٹ بولر ہونے کے علاوہ اپنی تیز رفتار گیندوں سے ٹیم کو غیرمتوقع کامیابی دلوانے کیلئے مشہور ہیں لیکن اس مقابلہ میں حریف کپتان جارج بیلی کی جارحانہ بیٹنگ کا شکار بنے اور اس اوور میں انہوں نے 22 رنز دیئے جس کی و جہ سے حیدرآباد کی ٹیم جو اس مقابلہ میں موجود تھی، اچانک ناکام ہوگئی۔
رواں سیزن یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ڈیل اسٹین کے ایک اوور میں 20 سے زائد رنز اسکور کرتے ہوئے حریف ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہو کیونکہ 14 مئی کو جہاں ڈیل اسٹین جارج بیلی کی بے رحم بیٹنگ کا شکار بنے وہیں 4 مئی کو این چنا سوامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے مقابلہ میں میزبان ٹیم رائل چیلنجرس بنگلور کے خلاف مقابلہ میں بھی ڈیل اسٹین نے رنز لٹاتے ہوئے ٹیم کی ایک امکانی کامیابی کو شکست میں تبدیل کردیا۔ چنا سوامی اسٹیڈیم میں ڈیل اسٹین کی پٹائی کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ ان کے جنوبی افریقی ساتھی کھلاڑی اور ونڈے کے کپتان اے بی ڈی ولیرس رہے جنہوں نے اسٹین کو دو چھکے اور دو چوکے مارنے کے علاوہ اس اوور میں مجموعی طور پر 23 رنز اسکور کرتے ہوئے ٹیم کو ایک سنسنی خیز کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔
ڈیل اسٹین قبل ازیں 6 مئی 2012ء کو بھی 23 رنز دیتے ہوئے اس وقت کی ٹیم دکن چارجس کی شکست میں تیز رفتاری سے رنز لٹانے کا رول ادا کیا تھا۔ چنا سوامی اسٹیڈیم میں ڈی ولیرس نے جہاں 41 گیندوں میں 89 رنز کی اننگز میں 8 چھکے مارے تھے اس میں 5 چھکے ڈیل اسٹین کے خلاف رہے جبکہ گذشتہ مقابلہ میں جارج بیلی نے اسٹین کو ایک ہی اوور میں دو چھکے لگاتے ہوئے مقابلہ کا نقشہ پلٹ دیا تھا۔ سن رائزس حیدرآباد جو پہلے ہی بیٹنگ شعبہ میں کپتان شکھر دھون کے ناقص مظاہروں اور غیرمتاثر کن قیادت سے پریشان ہیں، وہیں ڈیل اسٹین کو حریف بیٹسمینوں کی جانب سے بے رحمانہ بیٹنگ کا نشانہ بنانے سے اس کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ اتوار کو حیدرآباد میں کھیلے جانے والے اہم مقابلہ سے قبل سن رائزس حیدرآباد ’’ڈیل اسٹین بحران‘‘ پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہے۔