حیدرآباد ۔ /3 مارچ (سیاست نیوز) نارائن گوڑ ہ پولیس نے حمایت نگر میں آج صبح اسکراپ تاجر سید کلیم اللہ وسیم کے اغواء میں ملوث چار رکنی ٹولی کو اندرون دیڑھ گھنٹے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور مغویہ تاجر کو اغواء کنندوں کے چنگل سے رہا کرالیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس سنٹرل زون مسٹر وی بی کملاسن ریڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آج صبح 9 بج کر 10 منٹ پر انسپکٹر نارائن گوڑہ مسٹر بھیم ریڈی کو مس فاطمہ سارہ ساکن عنبریلا کلاسیک اپارٹمنٹ حمایت نگر کا فون موصول ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر سید کلیم کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے اور انہیں کرناٹک کی رجسٹریشن شدہ بولیرو کار KA-36-M-6607 میں جبراً لے گئے ۔ انسپکٹر نارائن گوڑہ نے سارہ کی اس اطلاع کو مین کنٹرول کو فلیش کی اور کچھ ہی دیر میں حیدرآباد و سائبر آباد کے تمام پولیس اسٹیشنس کو اس سلسلے میں چوکس کردیا گیا ۔ کرناٹک کی گاڑی ہونے کے پیش نظر اس ریاست کو جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی اور سائبرآباد کے پولیس پٹرولنگ گاڑیوں کو مذکورہ گاڑی نمبر فراہم کرتے ہوئے کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ۔ حیدرآباد و سائبر آباد پولیس کے بہترین تال میل کے سبب مغویہ اسکراپ تاجر کی گاڑی کو معین آباد پولیس پٹرولنگ ویان نے پتہ لگالیا اور بولیرو کار میں موجود چار افراد کو حراست میں لے لیا ۔ معین آباد پولیس کی جانب سے اغواء کنندوں اور مغویہ تاجر کا پتہ لگانے کی اطلاع پر انسپکٹر نارائن گوڑہ مسٹر بھیم ریڈی معین آباد پہونچ کر چار افراد کو حراست میں لیکر حیدرآباد منتقل کیا ۔ تفتیش کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ 37 سالہ محمد سلیم اور اس کا بھائی 34 سالہ محمد جاوید متوطن بسویش نگر یادگیر ڈسٹرکٹ کرناٹک نے اپنے کار ڈرائیورس محمد فخرالدین اور برین کمار کی مدد سے سید کلیم کا اغوا کیا ۔ تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ اسکراپ تاجر کلیم جو جی ای او گروپس (کشتیوں کے اسکراپ کا کاروبار) چلاتا ہے کا وینکٹیش نامی شخص نے اغواء کیس کے کلیدی ملزم محمد سلیم سے تعارف کروایا تھا اور اس سلسلے میں سلیم نے گوا سے اسکراپ خریدنے کے سلسلے میں ایک معاہدہ کیا اور کلیم کو 50 لاکھ روپئے بذریعہ آن لائین ٹریڈنگ حوالے کئے لیکن کلیم مبینہ طور پر اسکراپ فراہم کرنے میں ناکام رہا اور معاہدہ منسوخ ہوگیا ۔ محمد سلیم اسکراپ تاجر سید کلیم اللہ وسیم کو 50 لاکھ روپئے کی رقم لوٹانے کا مطالبہ کیا لیکن وہ ناکام رہا جس کے سبب سلیم نے اسکراپ تاجر کے خلاف سنٹرل کرائم اسٹیشن (سی سی ایس) حیدرآباد میں دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے تحت ایک مقدمہ درج کروایا جو زیرتحقیقات ہے ۔ کلیم اللہ وسیم کی جانب سے رقم کی ادائیگی میں تاخیر اور رقم کی واپسی سے متعلق اطمینان بخش جواب نہ دینے پر محمد سلیم نے اپنے بھائی اور ڈرائیوروں کی مدد سے اس کا اغوا کرنے کا منصوبہ تیار کیا اور آج صبح حمایت نگر اسٹریٹ نمبر 18 واقع عنبریلا کلاسک اپارٹمنٹ فلیٹ نمبر 401 پہونچ کر اس کا اغوا کرلیا اور جبراً اپنی بولیرو کار میں کرناٹک لیجانا چاہتا تھا ۔ پولیس کی چوکسی اور دونوں کمشنریٹ میں بہتر تال میل کے سبب کلیم اللہ وسیم کو اغواء کنندوں کے چنگل سے رہا کروالیا گیا ۔ پولیس نے اغواء کنندوں کے قبضے سے دو تلواریں اور موبائیل فون و جرم میں استعمال کی جانے والی کار کو ضبط کرلیا ۔ اس کیس کی تحقیقات میں انسپکٹر نارائن گوڑہ مسٹر بھیم ریڈی نے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس عابڈس ڈیویژن مسٹر جے راگھویندر ریڈی کی قیادت میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ مغویہ کلیم اللہ وسیم کو سی سی ایس پولیس نے حراست میں لیکر دھوکہ دہی کے مقدمہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔