حیدرآباد جو کل تھا کرم النساء بیگم

محبوب خان اصغر
ہم نے گزشتہ دنوں جس شخصیت کو مندرجہ بالا عنوان کے تحت آمادۂ گفتگو کیا وہ کئی اعتبار سے مختلف اور منفرد ہے ۔ انہوں نے مختلف ادوار کے نشیب و فراز دیکھے ۔ تغیرات کی تیز و تند ہوائیں دیکھیں۔ تہذیب اور کلچر کو بدلتا دیکھا ۔ رشتوں کی مضبوط ڈور کو ٹوٹتے بکھرتے دیکھا ۔ فسادات دیکھے ۔ تشدد دیکھا ۔ سفاکیاں دیکھیں۔ بیگانگی ، بے حسی ، اجنبیت اور قدروں کو پامال ہوتے دیکھا ۔ بہت سی خوبیوں سے بہرہ ور ، سچائی اچھائی ، خوش سلیقگی ، نفیس اور نستعلیق علم و فضل سے معمور، رعونت سے مبرا ، معمولی اور سادہ لباس میں ، غرور نہ اکڑ نہ ہی اپنے اعلیٰ خانوادے یا حسب و نسب کا رعب۔ اس غیر معمولی شخصیت کا نام کرم النساء بیگم ہے جو 10 فروری 1932 ء میں نواب میر محمود علی خاں کے گھر تولد ہوئیں۔ یہ کل تیرہ بھائی بہن تھے جن میں سے بارہ اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ میر معتبر علی خاں ، میر بشیر علی خاں ، میر خلیل خاں ، میر عابد علی خاں (بانی سیاست) ، میر مقصود علی خاں ، میر مسعود علی خاں اور میر حافظ علی خاں۔ اس طرح سات بھائی اور چھ بہنیں تھیں۔ اپنا خاندانی پس منظر بتاتے ہوئے وہ اشکبار ہوگئیں۔ سب کی موت کے غم کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی عابد علی خاں کے انتقال کے بعد انہیں زمین اپنے پیروں کے نیچے سے کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔ انہوں نے اپنی نجی زندگی سے متعلق بتایا کہ ان کے شوہر کا نام محمد مشفق حسین صدیقی تھا ۔ انہیں دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔ محمد رفیق حسین صدیقی عرصہ دراز تک لندن میں مقیم رہے ، ان دنوں سعودی عرب کی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ۔ محمد اعزاز حسین صدیقی امریکہ میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں۔ پروفیسر شگفتہ مولانا آزاد قومی یونیورسٹی میں ڈین انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس ہیں جبکہ ثریا جبین طویل عرصہ سے اپنے شوہر کے ہمراہ کینیڈا میں رہتی ہیں۔
محترمہ کرم النساء بیگم صاحبہ کے مطابق جب وہ پیدا ہوئیں تھیں، سماجی زندگی کی زبوں حالی کے سبب ہر طرف قنوطیت کے بادل تھے ۔ وہ ایک اضطراب آمیز دور تھا۔ ہر چہرے پر تفکر تھا ۔ اندیشوں اور تشویشات کی لکیریں ہر چہرے سے عیاں تھیں۔ ملک کے سیاسی حالات دگرگوں تھے ۔ سماجی اور اقتصادی حالات بھی بگڑ گئے تھے۔ پرانی یادوں سے اپنے دل کو آباد رکھنے والی اس خاتون نے بتایا کہ وہ ہوش سنبھال رہی تھیں اور ہر سو دوسری جنگ عظیم کی خون ریزیوںکا چرچہ تھا ۔
فرنگیوں سے جنگ آزادی آخری مراحل میں تھی۔ ا یک طویل جدوجہد کے بعد صبح آزادی کے سبھی منتظر تھے۔ کسی کو خبر نہیں تھی کہ جس صبح کیلئے تیرگی کے گہرے سمندروں کا مقابلہ کیا گیا تھا ، وہ صبح خون کے آنسو رُلائے گی ۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آزادی اور ملک کے منقسم ہونے کے بعد برصغیر میں منظم طور پر فسادات کالامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ۔ زندگیوں کے لالے پڑے ہوئے تھے ۔ ابھی تک تقسیم اور فسادات کے اثرات ذہن و دل میں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عہد کے حالات نے سب کو تہی دست و تہی جیب بنا ڈالا تھا ۔ کسمپرسی اور کشمکش نے ہوش اڑا رکھے تھے ۔ وضع داریاں ، اخلاص اور مروت تباہ ہوگئے تھے ۔ دلکشی اور جینے کی امنگیں ختم ہورہی تھیں اور آج بھی انہیں ماضی کی وہ دنیا یاد آتی ہے ۔ کرم النساء بیگم صاحبہ کو اگرچیکہ کوئی عارضہ نہیں ہے مگر ستاسی برس کی عمر میں پیرانہ سالی کے مسائل بھی تو ہوتے ہیں ۔ وہ ثقل سماعت کا شکار ہیں ۔ نحیف ہیں ۔ یادداشت بھی کمزور ہو چلی ہے مگر انہیں ماضی بعید یاد ہے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سے متعلق بتایا کہ وہ محبوبیہ گرلز ہائی اسکول کی طالبہ رہی ہیں جس میں پڑھنے والی اکثر طالبات کے سرپرست بھی پیشہ تدریس سے ہی وابستہ رہ چکے تھے ۔ پروفیسر آغا حیدر حسن مرزا کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ نظام کالج میں لکچرر تھے ۔ بعد میں پروفیسر بنے ۔ سائیکل پر آیا کرتے تھے ۔ ان کی صاحبزادی سیدہ مہر النساء شہزادی بھی محبوبیہ کی طالبہ رہ چکی ہیں۔ انہیں پانچ اولادیں تھیں۔ میر اصغر حسین ، میر سرفراز حسین اور میر اکبر حسین، ڈاکٹر فاطمہ شہناز اور سلطانہ حسن (زوجہ پروفیسر سراج الحسن) ، پروفیسر آغا حیدر حسن مرزا کے مذکورہ نواسے اور نواسیاں یوروپ کے تعلیم یافتہ ہیں اور غالباً ان دنوں حیدرآباد ہی میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محبوبیہ کالج میں امراء اور روساء کی اولادیں پڑھاکرتی تھیں اور اساتذہ برطانیہ کے فارغ التحصیل تھے جن میں اکثر اساتذہ برطانیہ ہی کے تھے ۔ عمارت خوبصورت تھی ۔ معیار تعلیم اعلیٰ تھا۔ اسکول کے اوقات کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے رکشہ والوں کی قطاریں ہوتی تھیں ۔ اسکول کے احاطہ میں مردوں کے داخلے پر پابندی تھی ۔ طالبات بھی اسکول کے باہر نکلنے سے اجتناب کرتی تھیں۔ رکشہ اسکول کے اندر آتے اور طالبات ان میں سوار ہوجاتیں۔ لباس ، پردہ اور رہن سہن کے سبب اسکول اسلامی تہذیب کا آئینہ دار تھا ۔ اس کے برخلاف کانونٹ اسکول کا لباس بالکل الگ تھا ۔ چھوٹی بڑی طالبات اسکرٹ پہنتی تھیں۔ سردست انہوں نے حیدرآباد پبلک اسکول سے متعلق معلومات پہنچاتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں یہ اسکول جاگیرداروں کے لئے مختص تھا اور مخصوص بھی ۔ یہاں بھی امراء اور روساء کے لڑکے پڑھتے تھے ۔ خاص بات یہ تھی کہ یہاں سے (HCS) حیدرآباد سیول سرویسز کامیاب کرنے والوں کا مقام و مرتبہ ایک آئی اے ایس کے مماثل تھا ۔ چونکہ اس میں نوابین اور امراء کے بچے پڑھتے تھے اور اساتذہ بھی یوروپ اور برطانیہ کے تھے لہذا ان کی سوچ مغربی طرز کی سی تھی جس کی وجہ سے (HPS) کا ماحول مغربی تہذیب کی غمازی کرتا تھا ۔ چمچ چھری اور فورک (کانٹے والا چمچہ) استعمال کئے جاتے تھے ۔ HCS کرنے کے بعد ان کا تقرر کلکٹر اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدوں پر ہوتا تھا ۔ انہوں نے قدیم یادوں کے حوالے سے بتایا کہ اشرف الحق گولکنڈہ میں فوجیوں کے ڈاکٹر تھے ۔ بلند شہر سے آتے تھے ۔ شاعر بھی تھے ۔ عریاؔں تخلص فرماتے تھے ۔ شبیر حسن خان جوش کے ساتھ ان کی رغبت اور بے تکلفی تھی ۔ جوش جب بھی حیدرآباد آتے عریاں کے ہاں ٹھہرتے تھے۔ عریاں کی ایک لڑکی تھی جس کا نام زیرک تھا ۔ وہ HCS کا امتحان کامیاب کرچکی تھی ۔ جوش زیرک سے شادی کے خواہاں تھے مگر ایسا نہیں ہوا ۔ زیرک کی شادی رضی الدین صاحب سے ہوگئی ۔
انہوں نے بتایا کہ 1956 ء میں آندھرا بنا تو یہاں کے معروف و مشہور مدارس میں عام لوگوں کے داخلے ہونے لگے اور تہذیب متاثر ہونے لگی ۔ آج حیدرآباد میں اڈلی دوسہ انہی کی دین ہے ۔ جو آج ہماری ضرورت بن گئی ہے ۔ انہوں نے صبح کے ناشتے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ان کے بچپن میں گھر، کئی افراد پر مشتمل ہوتے تھے اور سب کے لئے گھر میں ناشتہ تیار ہوتا تھا ۔ بڑے آنگن ، بڑے دالان ، سفالی چولہے ، سفالی برتن ، ایک وسیع دسترخوان بچھایا جاتا تھا اور تمام لوگ اکٹھے ہوکر کھاتے تھے پریشر کوکر ، مکسر گرائنڈر کا تصور نہیں تھا ۔ انہوں نے ماضی کا ورثہ کھوجانے اپنے اطراف و اکناف کے ماحول میں نت نئے تصورات کو عملی شکل دیئے جانے پر اظہار افسوس کیا ۔
علمی ماحول اور اساتذہ سے متعلق جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قبل ازیں جو اساتذہ قدیم طلباء کو میسر آئے ان میں ایک فلسفیانہ گیرائی ہوتی تھی ۔ وہ بڑے مفکر و مدبر ہوتے تھے ۔ حالات کی نباضی اور لوگوں کی مزاج دانی کا ایک خاص شعور انہیں حاصل تھا ۔ انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ آج علم اور عصری ٹکنالوجی کی بہتات کے باوجود فکری انحطاط کے سبب زوال آمادہ ہیں ، کئی مذمومات نے سماجی زندگی میں گھر کرلیا ہے جو کہ خطرناک ہے ۔ آج مذہبی اقدار یا مذہبی اصولوں سے انحراف کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ، یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے ۔ برسبیل تذکرہ انہوں نے سر سید احمد خاں اور علیگڑھ کالج کا ذکر کیا جو علم کا سرچشمہ ہے ۔ انہوں نے آصف جاہی سلاطین کی علم پروری کو اپنی گفتگو کا محور بناتے ہوئے جامعہ عثمانیہ کو حیدرآباد کی ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ جامعہ علم اور تعلیم کا ایک مرکز ہے جس سے وابستگی میں ترقی کا راز مضمر ہوا کرتا تھا۔
انہوں نے قدیم حیدرآباد میں پائی جانے والی اعتماد کی فضاء کا بالخصوص ذکر کیا جہاں ایک طبقہ دوسرے طبقے سے بے لوث محبت کرتا تھا ۔ بغض و عناد سے پاک دونوں طبقوں کے قلوب دکھ درد کو محسوس کرتے تھے ۔ بزرگوں کے نزدیک سیکولرازم کی اصطلاح بڑی ہی معنی خیز تھی ۔ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والے تھے مگر احترام آدمیت ان کی اولین ترجیح ہوا کرتی تھی ۔ اب اس ملک میں سربرآوردہ ، روشن خیال اور باضمیر لوگ نایاب ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے صالح اقدار اور مثبت و تعمیری پہلوؤں کو خطرات درپیش ہیں ۔ نتیجتاً سماج میں بداخلاقی ، بدامنی اور خلفشار کا دور دورہ ہے ۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ آصف جاہی سلطنت کے آخری سلطان نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع نے ممتاز عثمانین نواب سید عابد علی خاں بانی اردو روزنامہ سیاست کے عقد میں شرکت کی تھی ۔ کسی نشست میں اعلیٰ حضرت نے بانی سیاست سے سوال کیا تھا کہ ’’آپ کتنے بھائی بہن ہیں‘‘۔ ؟ جواب دیا گیا ’’تیرہ بھائی بہن ہیں‘‘ ۔ اعلیٰ حضرت نے کہا تھا ۔
"Thirteen with one wife” عابد صاحب اس بات کو اکثر یاد فرماتے تھے ۔ سردست انہوں نے قدیم حیدرآباد دکن کی شادیوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اسراف سے حتی الامکان دامن بچایا جاتا تھا ۔ وہ لوگ قناعت کے وسیع تر مفہوم سے آشنا تھے ۔ لڑکی والوں کو زیر بار کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا ۔ ریاکاری نہیں تھی ۔ ظاہر اور باطن میں تفاوت نہیں تھا ۔ صبح کے اوقات میں عقد پڑھائے جاتے ۔ ہمہ اقسام کے لوازات نہیں تھے ۔ سیدھا سادھا پکوان ہوتا ۔ سب اکٹھے ہوکر کھاتے ۔ فریق ایک دوسرے کی عزت کرتے ۔ سورج غروب ہونے سے قبل ہی دولہن اپنے نئے گھر اور نئے ماحول میں آجاتی ۔
محترمہ کرم النساء کے مطابق اس زمانے میں سڑکوں پر اور گھروں میں روشنی کا کوئی خاص بندوبست نہیں تھا ۔ چراغ اور قندیلوں کا دور تھا ۔ مچھرنہیں تھے ۔ گندگی اور تعفن نہیں تھا ۔ مٹی کے آنگن تھے ۔ شام کے اوقات میں پانی کا چرھکاؤ کیا جاتا تو مٹی کی سوندھی خوشبو روح میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی تھی ۔ برتن بھی آنگنوں میں دھوئے جاتے تھے ۔ کوئلے کے سفوف سے دانت اور برتن صاف کئے جاتے تھے ۔ دیسی مرغ گھروں میں ذبح ہوتے۔ سرے پائے اور مچھلی خواتین اپنے ہاتھوں سے صاف کرتیں۔ لکڑی کی دھیمی آنچ پر ہونے والے پکوانوں کا ذائقہ آج بھی یاد آتا ہے ۔
اخبار ’’سیاست‘‘ کے آغاز سے متعلق ہمارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وسائل نہیں تھے مگر عابد علی خاں اور محبوب حسین جگر کے حوصلے اور عزائم بلند تھے ۔ مابعد کا سوال آکھڑا ہوا ۔ ایثار کی ضرورت تھی ۔ گھر کی خواتین نے اپنا زیور فروخت کر ڈالا اس طرح دونوں مرحومین نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا ۔ اپنا سکھ چین تج کر اپنے خونِ جگر سے اخبار کی آبیاری کی ۔ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔ آج اخبارسیاست ایک تناور درخت اور ایک تحریک بن کر ہمارے سامنے ہے۔
کرم النساء بیگم کے بموجب اعلیٰ حضرت کا خیال تھا کہ غذا چاہے جو کھائیں پانی شفاف ہونا چاہئے ۔ آج سربراہی آب پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے عوام کو محتاط رہنے کی تلقین کی ۔ انہوں نے اس عہد کی ایک اور خصوصیت کا ذکر کیا اور بتایا کہ عہد عثمانی میں صاحبزادگان کی شادیاں ہوتی تھیں تو دولہن کی توقیر بڑھانے کے لئے اعلیٰ حضرت کی جانب سے چاندی کی کٹوری میں لچھا بطور تحفہ ارسال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی ہم منصب ڈاکٹر زینت ساجدہ کے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کو یاد کیا اور بتایا کہ ایک گھریلو خاتون ہوتے ہوئے تدریسی زندگی میں انہوں نے بہت نام کمایا ۔ ان کی شخصیت متنوع اور ہمہ جہت تھی ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر زینت ساجدہ سے ان کی دوستی رشتہ داری میں بدل گئی اور دونوں ایک دوسرے کی سمدھن رہیں۔ انہوں نے پیغام کے طور پر بتایا کہ آج تعلیمی اور اصلاحی تحریک کو ملک گیر پیمانے پر چلانے کی ضرورت ہے ۔ زندگی کے تمام شعبہ ہائے حیات میں شفافیت ضروری ہے ۔ انہوں نے بالخصوص نئی نسل میں شعور بیدار کرنے کو وقت کی اہم ضرورت بتایا کہ ملک کے اعلیٰ ثقافتی ورثے کے حقیقی وارث رہی ہیں۔