حیدرآباد جو کل تھا امن کا لیڈر بسواراج

محمد ریاض احمد
وہ زندگی بھر امن امن کی رٹ لگاتا رہا، لوگوں کو اس بات کی ترغیب دیتا رہا کہ لڑائی جھگڑوں اور تشدد میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ ایسی بیماریاں ہیں جو معاشرہ کو مکمل طور پر کھوکھلا کردیتی ہیں۔ امن کا پیغام پھیلانے اور معاشرہ کو فرقہ پرستی سے پاک رکھنے کیلئے اپنی ساری زندگی وقف کردینے کے باوجود اس شخص کے پاس کوئی بنگلہ ہے نہ گاڑی بلکہ وہ کرایہ کے ایک مخدوش مکان میں بڑی شان سے مقیم ہے۔ اسے اس بات کا اطمینان ہے کہ اس نے ساری زندگی سماج کے محروم و کمزور طبقات، کسانوں اور مظلوم اقلیتوں کے حق کیلئے جدوجہد کی۔ ان کی دعائیں ہی اس کا اثاثہ ہیں۔ قارئین … آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر یہ شخص کون ہے جو اتنے کارناموں کے باوجود گوشہ گمنامی میں اپنی زندگی کے آخری دن کاٹ رہا ہے۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ حیدرآباد کے مشہور عوامی خدمت گذار اور بزرگ کمیونسٹ قائد ایس بسواراج ہیں۔ انصاف پسندی، حق گوئی و بیباکی، مظلوم کی مدد، ظالم کی مخالفت اور غیرسماجی عناصر کو سماجی عناصر یا جہدکار بنانے میں ان کے کردار کو دیکھتے ہوئے انہیں حیدرآبادی تہذیب کی نمائندہ شخصیت کہا جاسکتا ہے۔ ظہیرآباد کے ایک چھوٹے سے موضع میں شری گنڈپا کے گھر 1935ء میں پیدا ہوئے۔ بسواراج حیدرآباد دکن کے سب سے قدیم پرانا پل کی ایک جانب واقع تاریخی مسجد میاں مشک کے قریب رہتے ہیں۔ ویسے بھی پرانا پل، مستعد پورہ، ٹپہ چبوترہ اور کاروان ایسے علاقے ہیں جو کبھی شابانہ جاہ و جلال کے لئے شہرت رکھتے تھے۔

سلطان ابراہیم قلی قطب شاہ کی جانب سے تعمیر کردہ پرانا پل کے آس پاس کئی تاریخی اور اہم و انقلابی شخصیتوں نے جنم لیا یا پھر وہاں قیام کیا ہے شاید اسی لئے اس علاقہ کو جانبازوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ 79 سالہ بسواراج کے مطابق حیدرآباد اولیاء اللہ کی سرزمین ہے جہاں درگاہیں، خانقاہیں آج بھی مرجع خلائق بنی ہوئی ہیں۔ حیدرآبادی تہذیب سے متعلق وہ کہتے ہیں ’’حیدرآباد ہمیشہ سے ہی محبت و مروت اور امن و امان کا گہوارہ رہا ہے۔ اس تاریخی شہر کی تہذیب دنیا کے کسی بھی مقام پر نہیں ملے گی۔ حیدرآباد جو کل تھا سلسلہ کے تحت حیدرآبادی تہذیب کی نمائندہ شخصیتوں سے بات چیت کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس کی ایک کڑی کے طور پر ہم نے جناب ایس بسواراج سے ملاقات کی جنہوں نے ضعیف العمری کے باوجود حیدرآبادی تہذیب، ہندو مسلم اتحاد، فرقہ پرستوں کی مفسدانہ حرکتوں اور موجودہ دور میں امن کی ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ واضح رہے کہ بسواراج کو کاروان میں امن کا لیڈر کہا جاتا ہے۔ وہ گذشتہ 50 دہوں سے عوام کی بے لوث خدمت میں مصروف ہیں۔ عوامی خدمت کے بارے میں سوال پر بسواراج کچھ دیر خاموش رہے۔ ان کی خاموشی سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ماضی کو ٹٹول رہے ہیں۔ بہرحال کچھ دیر میں ہی انہوں نے سکوت کو توڑتے ہوئے کہا، حیدرآباد میں عبدالستار کا قتل ہوا تھا۔ اس قتل سے ان کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ تب ہی سے زندگی بھر امن کیلئے کام کرنے کا عہد کرلیا۔ اس کام میں انہیں مخدوم محی الدین، راج بہادر گوڑ، بدری وشال پٹی، کنابیرن، جناب عابد علی خان اور جناب محبوب حسین جگر کی رہنمائی حاصل رہی جبکہ موجودہ ریاستی وزیرداخلہ این نرسمہا ریڈی بھی سیکولرازم کے استحکام اور غریبوں و کسانوں کے حق میں ان کی ہر مہم کی تائید و حمایت کرتے رہے۔ بسواراج کے مطابق مخدوم محی الدین اور راج بہادر گوڑ جیسی شخصیتوں کے باعث ہی انہیں انسانیت کو سیکھنے کا موقع ملا۔ بسواراج نے جو فی الوقت بستر علالت پر دراز ہیں،

مزید بتایا ’’حیدرآباد میں ہمیشہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں محبت رہی حالانکہ فرقہ پرستوں اور مفادات حاصلہ نے ان میں تفرقہ ڈالنے کی کوششیں کیں۔ کل کے حیدرآباد کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت عید و تہوار مل جل کر منایا کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشی و غم میں شریک ہونا فرض سمجھا جاتا تھا۔ ایک معمولی حادثہ بھی پیش آتا تو لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ متاثرہ شخص ہندو ہے یا مسلمان بلکہ فوری اس کی مدد کو دوڑ پڑتے۔ اللہ کا شکر ہے کہ حیدرآبادیوں کا یہ جذبہ ہمدردی آج بھی قائم ہے لیکن جس طرح وبائی امراض تیزی سے پھیلتے ہیں اسی طرح فرقہ پرست طاقتیں مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرتے ہوئے اپنے حقیر سیاسی مفادات حاصل کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں اور آج اس کے اثرات محسوس کئے جارہے ہیں۔ ماضی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق ایک سوال پر بسواراج نے بتایا کہ کانگریس سب سے بڑی فرقہ پرست جماعت ہے۔ اس نے ہی ہندو۔ مسلم کی سوچ و فکر پیدا کی۔ جمہوریت کے تحائف سے متعلق ایک سوال پر بزرگ کمیونسٹ قائد نے جو کبھی سی پی آئی میں ہوا کرتے تھے، بعد میں سی پی ایم میں شمولیت اختیار کی بتایا کہ زمانہ قدیم میں جمہوریت نہیں تھی۔ شاہی حکومت میں قومی یکجہتی بہت مضبوط تھی۔ تاہم ملک کی آزادی اور سقوط حیدرآباد کے بعد حالات بدل گئے۔ فرقہ پرست تنظیموں کو عروج حاصل ہوا جو بھولے بھالے عوام کے ذہنوں کو فرقہ پرستی سے آلودہ کرنے میں کامیاب بھی ہوئیں۔ مرکز میں بی جے پی کا اقتدار پر آنا اسی فرقہ پرستی کے عروج کا ثبوت ہے۔ بسواراج حیدرآباد کی گنگاجمنی تہذیب کے بارے میں کہتے ہیں ’’پہلے لوگوں میں معصومیت، بھولاپن اور سادگی بہت زیادہ تھی۔ انسان تو انسان جانوروں پر بھی ظلم برداشت نہیں کیا جاتا تھا ویسے بھی اس زمانے میں خوشیاں زیادہ اور غم کم تھے۔ آبادی بھی بہت کم تھی۔ بھیڑبھاڑ نہیں ہوا کرتی تھی۔ کاریں، موٹر سیکلیں بھی خال خال ہی نظر آتیں۔ سیکل اور رکشے بہت زیادہ تھے لیکن اب تو سب کچھ بدل گیا ہے۔ ہم آرام پسند ہوگئے۔ انسانوں کی بجائے مشینیں کام کرنے لگی ہیں۔ رکشے کی جگہ آٹورکشا اور کاروں نے لے لی ہے نفرت محبت پر غالب آرہی ہے۔ مروت کے اس شہرمیں بے مروتی آہستہ آہستہ اپنے وجود کو وسعت دے رہی ہے۔ ‘‘ بسواراج کے خیال میں وشوا ہندو پریشد، آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی تنظیمیں ملک کی سالمیت اور اتحاد کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ صرف اور صرف ووٹ بنک کے نام پر یہ تنظیمیں اور ان کے قائدین مذہبی منافرت پھیلارہے ہیں۔ ہندو ہندو بھائی کے نعرے لگاتے ہوئے غریب ہندوؤں کا استحصال کیا جاتا ہے لیکن جب دلتوں کو سینے سے لگانے کی بات آتی ہے تو ہندو ہندو بھائی بھائی کا نعرہ لگانے والوں کے ہوش اڑجاتے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا بجرنگ دل کا ایک قائد میرے پاس آیا اور ہندو ہندو بھائی بھائی کی باتیں کرنے لگا۔ اسے پتہ نہیں کہ میں کمیونسٹ ہوں، میں اس کی زہرآلود باتیں سنتا رہا اور پھر اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بھائی ایک دلت لڑکا ہے جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا کاروبار بھی کرتا ہے کیا تم اس کے ساتھ اپنی بیٹی یا بہن کی شادگی کرو گے؟ اس سوال پر وہ چونک سا گیا اور کہنے لگا ’’یہ کیسے ہوسکتا‘‘ہے ایسا نہیں ہوسکتا دلت بھی کہیں ہماری بچیوں سے شادی کرسکتے ہیں!! ہرگز نہیں… اس پر میں نے کہا تو پھر ہندو ۔ ہندو بھائی کا بھائی کا نعرہ کیوں لگاتے ہو، رشتہ کرو تو ہندو ہندو بھائی ورنہ کیسا بھائی اور کس کا بھائی۔ مجھے دیکھو میں کمیونسٹ ہوں اپنے دسترخوان پر سب کو بٹھاتا ہوں کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ غریبی اور بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی ذات نہیں ہوتی، روٹی یہ نہیں دیکھتی کہ وہ ہندو کی بھوک مٹا رہی ہے یا مسلمان کو راحت بخش رہی ہے۔

بسواراج کے خیال میں آج ہمارے معاشرہ میں فرقہ پرستی کا زہر گھولتے ہوئے جو لوگ دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں وہ دراصل جمہوریت کی دین ہے۔ ملک میں فرقہ پرستی کیلئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس بزرگ قائد نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’’ملک کی تقسیم کیلئے کانگریس اور نہرو خاندان ذمہ دار ہے۔ جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں پیش کیں لیکن جب انگریزوں کی غلامی سے نجات پانے کا وقت آیا تب مسلمانوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کی گئی۔ اگر محمد علی جناح کو وزیراعظم بنایا جاتا تو دنیا کے نقشہ میں پاکستان نظرہی نہیں آتا لیکن نہرو خاندان نے ہندوؤں کیلئے ہندوستان کی بات کی اس طرح ہندوستان تقسیم ہوگیا ورنہ آج عظیم ہندوستان دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت ہوتا۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں استفسار پر جناب بسواراج نے بڑی حسرت سے بتایا کہ وہ عطر کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ کاروبار زوروں پر تھا۔ مخدوم محی الدین اور دیگر کمیونسٹ قائدین سے ملاقات کے بعد ان کی زندگی بدل کر رہ گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ معاشرہ کے غریبوں خاص کر مزدور طبقہ اور کسانوں کو ان کا حق دلانا ضروری ہے۔ چنانچہ عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت انہوں نے سی پی آئی میں شمولیت اختیار کی اور پھر سی پی ایم میں شامل ہوگئے۔ اپنی آمدنی کا نصف حصہ گھر کیلئے اور نصف کمیونسٹ تحریک پر خرچ کردیتے۔ ان کی عوامی خدمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ظہیرآباد میں واقع اپنی آبائی 50 ایکڑ اراضی بھی کمیونسٹ تحریک کی نذر کردی۔ وہ مخدوم محی الدین، ڈاکٹر راج بہادر گوڑ، جواد رضوی، کے ایل مہندرا، آر وی رامچندرا ریڈی، اے کملادیوی، بدم یلاریڈی اور دھرما بھکشم کے ساتھ غریبوں کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے۔ ظہیرآباد، مستقر میدک، چیوڑلہ اور تانڈور میں کسانوں کے حقوق کے لئے جدوجہد اور انہیں اراضیات دلائیں۔ اس سوال پر کہ کیا عوامی خدمت کیلئے اپنا کاروبار، اپنی جائیداد اور زندگی کے کم از کم 64 سال لگانے کے باوجود اس کسمپرسی کی حالت میں ان کی مدد کیلئے کوئی آگے نہیں بڑھتا ؟ ایس بسواراج نے جن کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، کہا ’’پہلے لوگوں میں انسانیت تھی۔ اب انسانیت کی جگہ مطلب پرستی اور خودغرضی نے لے لی ہے۔ ماضی میں لوگوں کا نظریہ یہی ہوتا تھا کہ غریبوں و ضرورتمندوں خاص کر اپنے محسنوں کی مدد کی جائے لیکن اب یہ نظریہ بالکل بدل چکا ہے۔ لوگ صرف اپنی مدد کی پالیسی پر گامزن ہوگئے ہیں‘‘۔ ایک مجاہد آزادی و بزرگ قائد ہونے کے باوجود حکومت، سیاستداں اور تنظیمیں ان کی مدد کیلئے آگے نہیں آتیں۔ ہاں ! لوگ تعریف کرتے ہیں کہ بسواراج بہت اچھے آدمی ہیں جنہوں نے عوامی خدمت اور امن و امان کیلئے زندگی وقف کردی لیکن کوئی نہیں سوچتا کہ اس شخص نے اپنی زندگی وقف نہیں بلکہ زندگی تباہ کرلی ہے۔ وہ کہتے ہیں اخبارات والے آتے رہتے ہیں میرے بارے میں لکھتے ہیں۔ زبردست تعریف کی جاتی ہے۔ زبانی ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن پھر کوئی مڑ کر نہیں دیکھتا۔ کوئی انسان زبانی ہمدردی کے سہارے تو نہیں جی سکتا۔ ہاں سی پی ایم سے کبھی مدد مل جاتی ہے۔ سرینواس اور ناگیشور راؤ کبھی کبھار مدد کرجاتے ہیں۔ تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کے باپ ایس بسواراج اپنی ضعیفی کے باوجود اپنے قریبی دوست اور ہم محلہ ایم ٹی خان کے ساتھ شہر میں امن و امان کیلئے کئی تحریکوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ (جناب ایم ٹی خان کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے) ایس بسواراج کے خیال میں فرقہ پرست ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہمارے شہر کی شناخت کو مٹا رہے ہیں۔ اس کی شبیہہ بگاڑ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے تاریخی پرانا پل کے دروازہ کی مثال پیش کی اور کہا کہ اب یہ دروازہ مندر میں تبدیل کردیا گیا جب کہ حال حال تک اس دروازہ سے ٹریفک گذرا کرتی تھی۔ انہیں فرقہ پرستوں کی معاندانہ حرکت سے کہیں زیادہ حکومت، سرکاری اداروں بالخصوص پولیس اور بلدیہ کی بے حسی پر افسوس ہوتا ہے یہ تمام کے تمام ایک تاریخی دروازہ کو بچانے میں ناکام رہے اور اب بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بسواراج نے جو چارمینار کے دامن میں کئی مرتبہ بھوک ہڑتال کرچکے ہیں، کہتے ہیں کہ چارمینار کے پاس جو مندر ہے وہ پہلے نہیں تھا لیکن وہاں بھی مالدار مارواڑی سیٹھوں کے باعث مندر تعمیر کردیا گیا۔ اسی طرح موسیٰ ندی کے کناروں پر منادر تعمیر کئے جارہے حالانکہ مندر ایک پوتر مقام ہے جہاں پوجا کی جاتی ہے اور پوتر مقام صاف ستھری جگہ پر تعمیر کیا جانا چاہئے۔ نالوں، کنٹوں اور سڑکوں پر ناجائز قبضہ کرتے ہوئے مندروں کی تعمیر کوئی اچھی بات نہیں۔ کاروان میں امن کیلئے کام کرنے والی شخصیتوں کے بارے میں بسواراج کہتے ہیں کہ محمد باقر، سدو بھائی، پاشاہ بھائی، بالرام اور رام سوامی ایسے لوگ تھے جو امن کیلئے کام کرتے تھے جبکہ ہرا دروازہ کے یوسف علی صاحب مرحوم کو وہ اپنا استاد مانتے ہیں۔ پولیس ایکشن کے بارے میں ان کا کہنا ہے’’ پولیس ایکشن کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کمیونسٹوں نے مسلمانوں کا تحفظ کیا۔ خود میں نے کئی مسلمانوں کو بچایا ہے۔ کمیونسٹ بے شک حضور نظام اور رضاکاروں کے خلاف تھے لیکن مسلمانوں کے ہمدرد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے علمبردار ہیں۔ بسواراج کے خیال میں اب نکسلائیٹس تحریک کی ضرورت نہیں رہی۔ انہیں عوام کے ساتھ مل کر سیاسی سطح پر یہ لڑائی لڑنی چاہئے۔ انٹرویو کے آخر میں انہوں نے نوجوان نسل کے نام اپنے پیام میں کہا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر ہندوستانی کا حق ہے۔ ایسے میں نوجوان ملک خاص طور پر ہمارے شہر میں فرقہ پرستی کے انسداد میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔