راحت رسانی کارکنوں کیلئے ’ قومی ایوارڈ برائے نیتا جی‘ ۔وزیراعظم اعلان
نئی دہلی ۔ 21اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام ) ایک قومی ایوارڈ جو نیتاجی سبھاش چندر بوس کے نام سے موسوم ہے ‘ہر سال پولیس کے ارکان عملہ کو بچاؤ اور راحت کاری کارروائیوں میں آفات سماوی کے دوران بہترین کام انجام دینے پر دیا جائے گا ۔ یہ اعلان بوس کی 75ویں سالگرہ پر منظر عام پر آیا ۔ انہیں ہندوستان کی اولین آزاد حکومت قائم کرنے والا قرار دیا گیا ۔ انہوں نے 21اکٹوبر 1943ء کو آزاد ہند حکومت قائم کی تھی ۔ جاریہ سال سے ان کے نام سے موسوم ایک ایوارڈ پولیس کے ارکان عملہ کو مثالی کام کرنے پر دیا جائیگا ۔ مودی نے کہا کہ ایوارڈ کا اعلان 23جنوری کو کیا جائیگا جو نیتا جی کا یوم پیدائش ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک نیتاجی کی خدمات کو فراموش نہیں کرسکتا‘ جو انہوں نے آفات سماوی کے دوران انجام دی تھیں ۔ آفات سماوی ردعمل فورس کے ارکان عملہ کسی بھی آفات سماوی کے وقت راحت رسانی اور بچاؤ کارروائیاں کرتے ہیں ۔ این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کے ارکان عملہ و دیگر ملازمین پولیس نے جو پولیس فورس میں ہیں ملک ان کی دلیری ‘ اخلاص اور قربانی کو فراموش نہیں کرسکے گا ۔دریں اثناء وزیراعظم کے اعلان پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس ترجمان ابھیشیک مانو سنگھوی نے کہا کہ بھگوا پارٹی ملک کی تاریخ دوبارہ لکھنے پر بضد ہے ۔ انہوں نے نہرو ۔ گاندھی خاندان پر تنقیدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی بڑے قائدین جیسے سردار پٹیل ‘ بی آر امبیڈکر اور راس نے ملک کی جدوجہد آزادی میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں ۔ لیکن وہ ’ ایک خاندان ‘ کے درخشاں کارناموں کو بھول گئے ۔ سنگھوی نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ تحفظ اور تشہیر کا مثالی نمونہ بوس کو سمجھتی آئی ہے ‘ وہ ایک دلیر محب وطن تھے اور سیکولربھی تھے ۔ جو لوگ یہ نظریات نہیں رکھتے اور جنہوں نے قومی جدوجہد آزادی تحریک میں کوئی حصہ نہیں لیا ہے وہ نہیںجان سکتے کہ ہمارے مجاہدین آزادی کا ورثہ کیا ہے انہوں نے قوم پرستی کی تعریف بھی نہیں سنی ہے ۔