پٹنہ۔ 20؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ مرکز نے آج حکومت بہار کو ہدایت دی کہ اپنا غذائی اجناس کا کوٹہ دیگر ریاستوں سے جو مارچ اور مئی کی درمیانی مدت کے لئے تھا، زیادہ سے زیادہ 31 اگست تک حاصل کرلے۔ مرکزی وزیر برائے اغذیہ و عوامی نظام تقسیم رام ولاس پاسوان نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ 31 اگست قطعی آخری مہلت مقرر کی گئی ہے اور ان کی وزارت اس میں مزید توسیع نہیں کرے گی، چاہے آڈیٹرس بہار کو کوٹہ دینے کی کوئی بھی وضاحت کیوں نہ پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ رعایتی قیمتوں پر عوام کو غذائی اجناس کی عدم سربراہی کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس لئے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ جاریہ سال مارچ اور مئی کی درمیانی مدت کے لئے مرکز نے غذائی اجناس کا جو کوٹہ مختص کیا تھا، زیادہ سے زیادہ 31 اگست تک حاصل کرلے
اور استفادہ کنندوں میں مزید تاخیر کے بغیر غذائی اجناس تقسیم کردے۔ ریاستی حکومت کے خلاف گرفت مضبوط کرتے ہوئے جب کہ مرکز اور بہار کے درمیان غذائی اجناس کا کوٹہ تین ماہ کے اندر حاصل کرنے کے سلسلہ میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے دوران پاسوان نے حکومت بہار سے خواہش کی کہ جنگی خطوط پر ضرورت مند افراد کو مزید تاخیر کے بغیر رعایتی قیمتوں پر غذائی اجناس سربراہ کئے جائیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاست کے پاس ذخیرہ اندوزی اور گودام کی سہولت موجود نہیں ہے۔ چنانچہ غذائی اجناس کی سربراہی تاحال ممکن نہیں ہوسکی، لیکن حکومت بہار کسی نہ کسی بہانے مرکز پر الزام تراشی کررہی ہے۔ بہار میں 5 لاکھ 37 ہزار ٹن غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت حاصل کرلی تھی۔ پاسوان نے کہا کہ ریاستی حکومت تاحال ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کو باقاعدہ بنانے سے قاصر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہر ریاست میں کم از کم چار ماہ کے غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت ہونی چاہئے اور بہار کے معاملہ میں یہ صلاحیت صرف 16 لاکھ 36 ہزار ٹن غذائی اجناس کی ہے جو چار ماہ کے لئے محفوظ کئے جاسکتے ہیں، انفراسٹرکچر موجود ہی نہیں ہے۔ پاسوان نے نشاندہی کی کہ جہاں بہار جاریہ سیزن میں گیہوں کا ایک دانہ بھی حاصل نہیں کرسکا، چاول کی خریداری کی صلاحیت 2 لاکھ 86 ہزار ٹن ہے۔ اس کو 8 لاکھ 27 ہزار ٹن ہونا چاہئے۔ ریاستی حکومت کو رعایتی قیمتوں پر غذائی اجناس کے کوٹہ کی عدم سربراہی کی بناء پر عوامی برہمی کا سامنا ہے۔ پاسوان نے کہا کہ ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اندرون ریاست تیاری کے بغیر مرکزی قانون عجلت میں نافذ کردیا جائے۔