… محمد مبشر الدین خرم …
وارانسی ۔ 10 ۔ مئی : سارے ہندوستان کی نظریں وارانسی حلقہ لوک سبھا پر ٹکی ہوئی ہیں جہاں سے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی کا سخت مقابلہ اروند کجریوال سے ہورہا ہے ۔ اس حلقہ لوک سبھا میں جہاں زائد از 16 لاکھ رائے دہندے ہیں، لگ بھگ 3 لاکھ اقلیتی ووٹرس ہیں جن کا فیصلہ ان امیدواروں کی تقدیر بدل سکتاہے ۔ بنارس تہذیبی و ثقافتی شہر ہے لیکن اس کے باوجود اس شہر میں مذہبی منافرت نظر نہیں آتی ۔ 10 مئی کی شام ہوتے ہوتے جب اس اہم ترین انتخابی حلقہ پارلیمان میں مہم اختتام کو پہنچی ،اس وقت تک ملک کے تقریباً سبھی بڑے سیاسی قائدین اس حلقہ کی انتخابی مہم میں حصہ لے چکے تھے ۔
بی جے پی سے ارون جیٹلی ، سشما سوراج ، امیت شاہ ، راجناتھ سنگھ کے علاوہ دیگر قائدین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا ، جبکہ کانگریس سے خود صدر سونیا گاندھی کے علاوہ راہول گاندھی ، غلام نبی آزاد ، مدھو سدن مستری اور دیگر نے اپنے امیدوار اجئے رائے کے حق میں انتخابی مہم چلائی، جنھیں مقامی جماعت قومی ایکتا دل کے مختار انصاری کی تائید حاصل ہے ۔ کجریوال جو اس حلقہ سے مودی کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں، اُن کی تائید میں ملک بھر سے سکیولر و دیانتدار سیاست کے حامی انتخابی مہم کیلئے جمع ہوئے ہیں ۔
انتخابی مہم کے اختتام سے دو دن قبل مودی نے روڈ شو کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، اس کے دوسرے دن کجریوال نے شہر میں روڈ شو کے انعقاد کے ذریعہ اپنی قوت کے اظہار میں کوئی کمی نہیں رکھی ۔ انتخابی مہم کے آج آخری دن راہول گاندھی نے روڈ شو منعقد کیا اور دوپہر سے چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو کا روڈ شو ہوا ۔