حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے 7 امیدوار انتخابی میدان میں

کوڑنگل۔ 15 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی کوڑنگل کی نشست کے لئے جملہ 12 نامزدگیاں داخل کی گئی تھیں۔ نامزدگیاں واپس لینے کی آخری تاریخ کو چار امیدواران مسرز ناگراج گوڑ (ٹی آر ایس)، پونم چند لاہوٹی (ٹی آر ایس)، چندرپا (بی جے پی)، گوکل آڈے (بی جے پی) نے اپنے پرچہ جات نامزدگی واپس لیتے ہوئے انتخابات سے دستبرداری اختیار کرلی، جبکہ وائیس ایس آر سی پی امیدوار مسٹر اوم پرکاش نے بروقت بی فارم داخل کرنے سے قاصر رہے جس کی وجہ ان کا پرچہ نامزدگی مسترد ہوگیا۔ موجودہ طور پر سات امیدوار میدان میں ہیں جن میں قابل ذکر کانگریس پارٹی کے امیدوار وٹھل راؤ، ٹی آر ایس کے امیدوار گروناتھ ریڈی، اے ریونت ریڈی (تلگو دیشم)، ایسویا (بی ایس پی)، لنگم چنا سائیا آزاد، سرینواس ریڈی آزاد، بسپا آزاد، عام تاثر کے بموجب اصل مقابلہ ٹی آر ایس، کانگریس اور تلگو دیشم کے مابین ہوگا۔ 30 اپریل 2014ء کو منعقد شدنی عام انتخابات حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں۔ حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے موجودہ انتخابات ایک عجیب موڑ اختیار کرچکے ہیں جس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حلقہ اسمبلی میں یہی مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ہار جیت پر داؤ لگا ہوا ہے۔ سیاسی نشیب و فراز پارٹیوں میں گروپ بندیوں وغیرہ سے عاجز آتے ہوئے کانگریس کے سینئر قائد و سابق رکن اسمبلی مسٹر گروناتھ ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے پارٹی ٹکٹ پر کوڑنگل حلقہ اسمبلی سے نبردآزما ہیں۔ یوں تو سات امیدوار انتخابی میدان میں ہیں مگر عام تاثر کے مطابق کانگریس، ٹی آر ایس اور ٹی ڈی پی کے مابین اصل مقابلہ ہوگا۔