حضرت غوث اعظم، علوم نبوی کے سچے وارث

ہنمکنڈہ میں جلسہ، جناب محمد سرور علی افسر اور دیگر کا خطاب

ہنمکنڈہ /8 مارچ (ذریعہ ڈاک) زیر اہتمام اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ اکیڈمی مسجد چوک ہنمکنڈہ بعنوان ’’اسلامی اقدار کی بحالی میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار‘‘ ایک سمپوزیم بصدارت مولانا رحمت اللہ خاں منعقد ہوا۔ آیات ربانی کی تلاوت کے بعد جناب محمد سرور علی افسر نے کہا کہ پانچویں صدی کے آخر میں بغداد کی سرزمین شرک و الحاد، فسق و فجور، گمراہی و ضلالت، غیر شرعی رسم و رواج اور بدعات و توہمات سے بھری ہوئی تھی۔ ایسے ماحول میں حضرت غوث اعظم کی تعلیمات نے دین اسلام کو تابناک بنادیا۔ پروفیسر مجاہد عرفان نے کہا کہ آپ کے مواعظ حسنہ اور مجالس میں دروس قرآن مجید کے اثر سے اسلام روشن و درخشندہ بن گیا اور انسانیت کا چمن سرسبز و شاداب بن کر پورے ماحول کو رضائے الہی کا ہمنوا بنا دیا، اس طرح ہر طرف توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ انھوں نے کہا کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ علوم نبویﷺ کے سچے وارث، جلیل القدر عالم دین، ایک عظیم دینی مبلغ، عدیم النظیر مصلح اور بے باک قائد تھے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر آپ کی زندگی کا عین مقصد تھا۔ آپ کی اعلی ترین روحانی طاقت و حکمت عملی نے مغرور و جابر سلاطین و امراء کو بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہونے پر مجبور کردیا۔ آپ کی تبلیغ و اشاعت سے بغداد کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اسلام کی آغوش میں آگیا، ڈاکوؤں اور گم گشتگان راہ کو ہدایت نصیب ہوئی۔ آپ کی تصانیف میں قابل ذکر غنیۃ الطالبین، الفتح الربانی اور فتوح الغیب ہیں۔ ۱۱؍ ربیع الآخر ۵۶۱ھ کو آپ واصل بحق ہوئے۔ آج بھی آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ جناب قادر علی کے اظہار تشکر اور دعاء کے بعد سمپوزیم کا اختتام عمل میں آیا۔