حضرت جان پاک شہید کے عرس کا 23 جنوری سے آغاز

سالانہ تقریباً 2 کروڑ آمدنی کے باوجود زائرین کے لئے سہولت کی عدم فراہمی
مریال گوڑہ /18 جنوری (سید ابراہیم عارف کی رپورٹ) درگاہ حضرت جان پاک شہید رحمۃ اللہ علیہ المعروف حضرت خواجہ معین الدین جو ضلع نلگنڈہ کے نیرڈچرلہ منڈل کے موضع جان پہاڑ میں ہے، جس کا شمار ریاست تلنگانہ کی مشہور درگاہوں میں ہوتا ہے۔ حضرت کے عرس کے موقع پر ریاست تلنگانہ کے علاوہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے زائرین بھی ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ حضرت سے عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مسلم خاص طورپر ایس ٹی طبقہ کے افراد ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ دو سو سالہ قدیم درگاہ کی خدمات سال 1991ء تک متولیان محمد احمد حسین، محمد غلام رسول اور ان کے اہل خاندان انجام دیتے رہے، لیکن 1991ء میں ریاستی وقف بورڈ اپنی تحویل میں لے کر تمام انتظامی امور اپنی نگرانی میں کنٹراکٹ کے ذریعہ انجام دے رہا ہے۔ درگاہ کی جملہ اراضی 6 ایکڑ 24 گنٹہ ہے، جب کہ حکومت کی جانب سے 9 ایکڑ 30 گنٹہ اراضی درگاہ کے لئے فراہم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں درگاہ کی دیکھ بھال کے لئے درگاہ سے کچھ فاصلہ پر 50 ایکڑ اراضی موجود ہے۔ ریاستی وقف بورڈ کو درگاہ سے سالانہ ڈیڑھ تا دو کروڑ آمدنی ہوتی ہے، لیکن درگاہ کی زیارت کے لئے آنے والے زائرین کو بنیادی سہولتیں پہنچانے میں وقف بورڈ ناکام ہے۔ دور دراز مقامات سے سفر کرکے آنے والے زائرین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زائرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ریاستی وقف بورڈ کو درگاہ سے جو آمدنی ہوتی ہے، اگر اس آمدنی کا صرف 20 تا 30 فیصد حصہ تعمیر اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے تو زائرین کے لئے بہت سی سہولتیں مہیا ہوسکتی ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے درگاہ کے لئے 20 سال قبل جو اسٹاف تقرر کیا گیا تھا، اب وہ ناکام ہو رہا ہے۔ درگاہ کے اسٹاف کی تنخواہیں بھی بہت قلیل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درگاہ کے اطراف و اکناف مقامی افراد درگاہ کی اراضی پر ناجائز قبضے کرکے پکے مکانات تعمیر کر رہے ہیں۔ وقف بورڈ کو چاہئے کہ ان ناجائز قبضوں کو برخاست کرتے ہوئے درگاہ کی اراضی کی حفاظت کرے اور درگاہ کے اطراف حصار بندی پر فوری توجہ دے۔ کافی عرصہ بعد ریاستی وقف بورڈ کے چیرمین سید افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ کے دور میں درگاہ کی ترقی اور تعمیراتی کام کے لئے 50 لاکھ روپئے منظور کئے گئے تھے، لیکن صرف 22 لاکھ روپئے سے ایک گیسٹ ہاؤس، زائرین کی رہائش کے لئے 5 کمرے اور 6 واٹر ہاؤس کی تعمیر عمل میں آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جس شخص کو اس کام کا ٹھیکہ دیا گیا تھا، اس نے انتہائی سستے مٹیریل کے ذریعہ تعمیراتی کام انجام دیئے، یعنی ان تعمیراتی کاموں کو وقف بورڈ (درگاہ) کے حوالے کرنے سے پہلے ہی دیواروں میں دراڑ پڑ گئے، لہذا ریاستی وقف بورڈ کو چاہئے کہ اس جانب فوری توجہ مرکوز کرکے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لے اور اس سلسلے میں انکوائری کروائے۔ اب جب کہ 23 تا 25 جنوری وقف بورڈ کی راست نگرانی میں حضرت کا عرس شریف ہونے والا ہے، عقیدت مند اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس سال ریاستی وقف بورڈ زائرین کے لئے بہتر سے بہتر سہولت فراہم کرے گا۔