حلقہ لوک سبھا محبوب نگر سے جے پال ریڈی کو امیدوار بنانے کے قوی امکانات
محبوب نگر /16 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عام انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کے لئے ٹکٹ کے خواہش مند کانگریس قائدین رسہ کشی میں مصروف ہیں۔ تلنگانہ ایکشن کمیٹی کی تشکیل اور ریاستی پارٹی امور کے انچارج ڈگ وجے سنگھ کے ریاستی دورہ کے بعد حالات میں مزید گرمی پیدا ہو گئی ہے۔ دو روز قبل کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے 23 قائدین کو نمائندگی دی تھی، جس میں مرکزی وزیر جے پال ریڈی کے علاوہ ضلع کی سابق وزیر ڈی کے ارونا بھی شامل ہیں۔ حلقہ پارلیمان محبوب نگر سے جے پال ریڈی کو امیدوار بنائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ اس بات کو لے کر جے پال ریڈی کے حامی گروپ میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ڈی کے ارونا کے حامیوں کو توقع ہے کہ چوں کہ ڈی کے ارونا کو ایکشن کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے، اس لئے ان کے حامیوں کو ٹکٹوں کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔
ضلع کے گدوال اور ونپرتی کے علاوہ دیگر اسمبلی حلقہ جات میں بھی ٹکٹوں کے حصول کے لئے دو گروپس کے درمیان سخت رسہ کشی جاری ہے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب مرکزی وزیر جے پال ریڈی اگر حلقہ لوک سبھا محبوب نگر سے مقابلہ کرتے ہیں تو کانگریس میں سیاسی تبدیلیوں کے امکانات ہیں۔ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں محبوب نگر لوک سبھا نشست کے لئے ڈی وٹھل راؤ نے مقابلہ کیا تھا، لیکن 2014ء کے عام انتخابات میں انھیں حلقہ اسمبلی نارائن پیٹ سے ٹکٹ دیئے جانے کا امکان ہے۔ ان اطلاعات کو لے کر بعض قائدین ناراض ہیں۔ جے پال ریڈی کو یہاں سے لوک سبھا امیدوار نہ بنائے جانے کی صورت میں دوسری ترجیح آنجہانی ملکا رجن کی اہلیہ کو امیدوار کے طورپر لانے کے لئے ایک گروپ کوشاں ہے۔ سابق رکن اسمبلی ملو روی کو حلقہ اسمبلی جڑچرلہ سے امیدوار بنائے جانے کی اطلاعات ان کے گروپ میں گشت کر رہی ہیں۔ ڈگ وجے سنگھ سے ضلع کے کانگریس قائدین ٹکٹوں کے حصول کے لئے ملاقات کرتے ہوئے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گروپوں اور ٹکٹ کے دعویداروں کے درمیان مسابقت جاری ہے، اب تو وقت ہی بتائے گا کہ ٹکٹ کے حصول میں کون کامیاب ہوتا ہے۔