نظام آباد میں مولانا ولی اللہ قاسمی کا اساتذہ اور طلباء سے خطاب
نظام آباد :8؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلی وحی حضورؐ پر جو نازل فرمائی ہے وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیات ہیں جن میں پڑھنے کیلئے حکم دیاگیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ علم سب سے اول و افضل ہے علم ہی وہ دولت ہے جس کے ذریعہ سے ہر انسان حلال وحرام اچھے برے کی تمیز پیدا کرکے اپنی زندگی کو طاعات و مرضیات مولیٰ کے مطابق گذار سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا سید ولی اللہ قاسمی نے مدرسہ مظہر العلوم میں منعقدہ اصلاحی مجلس برائے اساتذہ و طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن واحادیث میں بھی حضورؐ کی بعثت سے قبل والے زمانہ کو دور جاہلیت سے تعبیر کیاہے حالانکہ عرب میں کئی ایک برائیاں اس وقت عام عروج پر تھیں لیکن ان سب کو چھوڑ کر جاہلیت سے اس زمانہ کو یاد کرنا محض جہالت کی مذمت کو بیان کرکے حضورؐ کی بعثت وآمد کو نورِ علم سے متعارف کرواناتھا کہ حضورؐ قرآن وحدیث کا علم لیکر آئے جو ایک روشنی ہے جس کی وجہ سے جہالت کا اندھیرا خود بخود دور ہوجائے گا اور اسی نور نبوت اور روشنی علم کی وجہ سے ساری برائیاں جو اہل عرب میں اور ساری دنیا والوں میں رائج تھیں ختم ہوجائیں گی۔ علم ہی کے ذریعہ ہر گناہ اور ہر برائی کو مٹایاجاسکتاہے یہی وجہ ہے کہ حضورؐ نے احادیث مبارکہ میں بکثرت علم دین حاصل کرنے والوں کے فضائل بیان فرمائے ہیں حتیٰ کہ حصول علم دین کی راہ کو اللہ کا راستہ بتایاگیاہے۔ اکابرین امت نے اس علم کو حاصل کرنے کیلئے بڑے بڑے مجاہدات ،ریاضتیں اورتکلیفیں اٹھائی ہیں محض اس علم کی عظمت کی وجہ سے ہے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کا علمی شغف تو انتہاء کو پہنچا ہوا تھا کہ رات کو عشاء کے بعد مطالعہ میں مصروف ہوتے تو اذان فجر تک اس میں غرق رہتے اور یہ ایک دو دن کا معمول نہیں بلکہ برسوں تک یہی معمول رہاہے۔حضرت مولانا عبدالقادرؒ کا علمی شغف اس قدر تھاکہ حصول علم کیلئے انہوں نے صرف بازار میں پھینکی ہوئی سبزیوں کو ابال کر کھالیا کرتے تھے اور علم حاصل کرتے رہتے تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ اونٹوں کے اڈہ پر جاکر لوگوں کے سامان اٹھاتے اور اتارتے تھے اور اس رات کی مزدوری سے حاصل شدہ رقم لیکر گذارا کرتے اور صبح میں دین کا علم حاصل کرتے تھے تب ہی تو اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو یہ مقام بلند عطا فرمایا کہ دنیا آج ان کے علوم سے فیضیاب ہورہی ہے۔لیکن آج المیہ ہے کہ اسی علم دین کی اہمیت و عظمت ہمارے دلوں سے نکلتی جارہی ہے۔ دنیا کے علوم کوترجیح دے کر ہم اس علم دین کی ناقدری کے مرتکب ہوتے جارہے ہیں۔ یاد رہے کہ اللہ اپنے علم(قرآن وحدیث ) کی ناقدری کو کبھی برداشت نہیں کریں گے اور اس علم کی حفاظت کرتے ہوئے علوم کواٹھالیں گے یعنی اکابر علماء قدر دان علماء کو اپنے پاس بلواکر ناقدرے انسان کو محروم فرمادیتے ہوئے اس کو حضورؐ نے حدیث میں فرمایا کہ علم اٹھالیا جائے گا جب اس کی قدردانی نہیں کی جائے گی اور یہ قیامت کے قریب ہونے کی علامت ہے۔ اس موقع پر تمام طلباء شعبہ عالمیت وحفظ کے علاوہ مولانا مفتی رئیس قاسمی ، مولانا مفتی عبدالماجد قاسمی، مولانا مفتی شیخ محمود قاسمی ، مولانا عبدالصمد، مولانا عبدالقیوم شاکر القاسمی، مولانا عبدالرقیب قاسمی کے علاوہ حافظ محمد فیاض مخدوم اور حافظ محمد فہیم موجود تھے۔