حصول اراضی قانون پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد

نئی دہلی۔ 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن اور اپنی حلیف پارٹیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنے والی حکومت آج مجبور ہوگئی کہ متنازعہ حصول اراضی قانون پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی سے رجوع کردے جبکہ راہول گاندھی نے حکومت پر تنقید کی قیادت کی۔ حکومت نے دو بار گزشتہ دسمبر سے اب تک آرڈیننس جاری کئے ہیں جبکہ اسے قبل ازیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آج حکومت 30 رکنی کمیٹی سے اس مسئلہ کو رجوع کرنے پر تیار ہوگئی جبکہ اس کی حلیف پارٹیاں شیوسینا اور اکالی دل نے لوک سبھا میں اس کی مخالفت کی۔ مشترکہ کمیٹی برائے لوک سبھا و راجیہ سبھا کو اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن پیش کرنی ہوگی۔ یہ قانون ایوان زیریں میں پہلے ہی منظور ہوچکا ہے۔ مباحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر برائے دیہی ترقیات پیریندر سنگھ نے اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ یہ قانون کاشت کاروں کے مفادات کے خلاف ہے اور ادعا کیا کہ ساتھ ہی ساتھ ترقی بھی ہوگی۔ یہ قانون کاشت کاروں کی تائید میں ہے۔ ہمیں اس کے دونوں پہیہ یعنی کاشت کاروں اور صنعتوں دونوں کو مستحکم کرنا ہوگا تاکہ ملک ترقی کرسکے۔ قبل ازیں جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے راہول گاندھی نے حکومت پر تنقید کی قیادت کی اور عہد کیا کہ اس قانون کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا اور اکالی دل نے جو حکومت کی حلیف ہیں ، مطالبہ کیا ہے کہ یہ مسئلہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کردیا جائے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سوجھ بوجھ کی سرکار کی اس کوشش کی سختی سے مخالفت کرے گی۔