حریف ٹیم کو خوفزدہ کرنا ناگزیر: میچل جانسن

ملبورن۔ 22؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر میچل جانسن جنھوں نے ہندوستان کے خلاف دوسرے ٹسٹ میچ میں ٹیم کو کامیابی دلوانے میں گیند اور بیاٹ دونوں سے کلیدی رول ادا کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حریف کھلاڑی کو نفسیاتی طور پر خوفزدہ کرنا ناگزیر ہوتا ہے اور یہ کرکٹ کے میدانوں میں ضروری بھی ہے۔ یہاں بعنوان ’’میچل جانسن: باؤنسنگ بیاک‘‘ کی ڈی وی ڈی کو متعارف کرنے کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے میچل جانسن نے کہا کہ بعض وقت ہم احمقانہ الفاظ بھی ادا کرتے ہیں، کیونکہ جب ہم کھیل میں باقی نہیں رہتے تو اس طرح کی حکمت ِ عملی اختیار کی جاتی ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کچھ ایسے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں جو حریف بیٹسمینوں کے ذہن میں خوف پیدا کرتا ہے۔ ایک مرتبہ بیٹسمین کے ذہن میں خوف پیدا ہوتا ہے تو اسے شارٹ پچ گیندیں ڈالتے ہوئے مزید پریشان کیا جاتا ہے۔ جانسن نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ان تمام حکمت ِ عملیوں کے باوجود ہم نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے، اسے عبور نہیں کرتے۔ برسبین میں کھیلے گئے دوسرے ٹسٹ میں جانسن کا میدان پر ہندوستانی کھلاڑیوں کے ساتھ تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا تھا اور ہندوستانی کھلاڑیوں نے جانسن کے خلاف جارحانہ حکمت ِ عملی اختیار کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کا مہمان کو نقصان اُٹھانا پڑا۔ جانسن نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے قیمتی 88 رنز بنائے جس کے بعد تھوڑی ہی وقفہ میں 4 اہم وکٹیں حاصل کرتے ہوئے آسٹریلیائی ٹیم کو 4 مقابلوں کی رواں سیریز میں ہندوستان کے خلاف 2-0 کی ناقابل تسخیر سبقت دلوائی۔ جانسن کے بموجب بیٹسمین کو ذہنی طور پر جب خوفزدہ کیا جاتا ہے تو اس کے پیروں کی حرکت متاثر ہوتی ہے جس کا بولر کو فائدہ ہوتا ہے۔