نئی دہلی۔ 14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یوگا گرو رام دیو کے ایک مبینہ قریبی صحافی کی جو بی جے پی کا کٹر حامی ہے، کی 26 نومبر 2008ء کے حملے کے کلیدی سازشی حافظ سعید سے ملاقات پر پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات کے دوران ہنگامہ کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے راجیہ سبھا کا اجلاس دو مرتبہ ملتوی کردیا گیا حالانکہ حکومت نے ایوان بالا وضاحت کی کہ اس کا اس ملاقات سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کانگریس کے ارکان نے حکومت سے ہندوستان انتہائی مطلوب دہشت گرد سے اس ملاقات کے مقصد کے بارے میں تفصیلی بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ راجیہ سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران کانگریس ارکان نے شوروغل مچایا جبکہ لوک سبھا میں دیگر اپوزیشن ارکان نے یہی کارروائی کی۔ کانگریس کے حلیف جاننا چاہتے تھے کہ کیا صحافی نے حکومت سے حافظ سعید سے ملاقات کی اجازت حاصل کی تھی، اور اس ملاقات میں اس کی مدد کس نے کی تھی۔ راجیہ سبھا میں قائد ایوان مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، حافظ سعید ایک دہشت گرد ہے اور ہندوستان کے خلاف درحقیقت دہشت گردی میں ملوث ہے۔ حکومت کا صحافی کی سعید سے ملاقات سے کوئی راست، بالواسطہ یا دُور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ حکومت نے کسی کو بھی اس (سعید) سے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ راجیہ سبھا میں کانگریس ارکان نے صحافی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان کے قائد ڈگ وجئے سنگھ نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے جیٹلی سے جاننا چاہا کہ کیا اس ملاقات کو حکومت کی منظوری حاصل تھی۔ صدرنشین حامد انصاری نے انہیں یہ مسئلہ اٹھانے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ اس کا موقع وقفہ سوالات نہیں ہے، لیکن کانگریس ارکان نے اصرار کیا کہ حامد انصاری نے اجلاس 15 منٹ کیلئے ملتوی کردیا۔ اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوتے ہی سینئر رکن آنند شرما نے کہا کہ حافظ سعید ہندوستان بلکہ دنیا کو انتہائی مطلوب دہشت گرد ہیں۔ اطلاعات کے بموجب وید پرکاش ویدک جو ایک فری لانس صحافی ہے۔ اس نے لاہور میں 2 جولائی کو جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ سے ملاقات کی تھی جبکہ وہ صحافی اور سیاست دانوں کے ایک گروپ میں شامل تھا جو امن کی تحقیق کے ادارہ کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کررہا تھا۔ حافظ سعید پر ہندوستان کا الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی دہشت گرد حملوں 2008ء کی سازش تیار کی تھی۔ وہ پاکستان کی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی ہیں۔ ان کے سَر پر امریکہ نے 10 کروڑ ڈالرس کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔ دریں اثناء وزارتِ داخلہ سے تعلق رکھنے والی 11 ہزار 100 فائیلس تلف کردینے کے تنازعہ کے دوران حکومت نے آج راجیہ سبھا کو تیقن دیا کہ وہ ہندوستان کی شاندار تاریخ سے مربوط کسی بھی فائل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے یا اسے تلف کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ارکان کے تاریخ کے تسلسل میں دخل اندازی کے حکومت کے بارے میں اندیشوں کا کُل کا ازالہ کیا۔