شریعت پر مسلمان خاموش… فلم کے خلاف راجپوت جاگ اٹھے
حج سبسیڈی … اسرائیلی ’’بی بی‘‘ کو مودی کا تحفہ
رشیدالدین
کسی بھی قوم کے زوال کی علامتوں کے بارے میں مورخین اور محققین نے الگ الگ رائے کا اظہار کیا لیکن اقوام کے عروج و زوال پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہناہے کہ جب کسی قوم میں احساس دم توڑ دیتا ہے تو پھر زوال مقدر بن جاتا ہے۔ جب احساس ختم ہوجائے تو اس قوم کی شناخت اور تشخص کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ بے حسی کی یہ کیفیت قوت مدافعت سے محروم کردیتی ہے۔ ہر طرف سے مذہب ، تہذیب و تمدن اور زبان پر حملے ہوں تب بھی بے حسی کا غلبہ خواب غفلت سے نکلنے کا موقع فراہم نہیں کرتا۔ احساس کے خاتمہ کے بعد ظلم سہنے اور محض رونے دھونے کے سواء کوئی چارہ نہیں رہتا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب تک ایمان اور احساس باقی رہا تعداد میں کمی کے باوجود طاقتور لشکروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ہندوستان میں مسلمان دوسری بڑی اکثریت کا درجہ رکھتے ہیں لیکن احساس اور جذبہ کی کمی نے اسلام اور مسلم دشمن طاقتوں کو سر ابھارنے کا موقع فراہم کردیا۔ تعداد میں قابل لحاظ اور اثر انداز ہونے کی طاقت کے باوجود باطل طاقتوں سے مقابلے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اس مرحلہ پر ہمیں حضور اکرمؐ کے مکی دور کے ابتدائی ایام کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ جب تبلیغ اسلام کا کام اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھپ کر کی جارہی تھی ، حضرت عمر بن خطابؓ اسلام کی آغوش میں آئے تو آپ نے حضور اکرم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم بیشک حق پر ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ جب ہم حق پر ہیں تو پھر چھپ کر یا خوف کے ماحول میں عبادت کیوں کریں؟ مسلمانوں نے نعرہ تکبیر کی گونج میں کعبۃ اللہ میں علی الاعلان نماز ادا کی۔ اسلام اور اس کی تعلیمات آج بھی وہی ہیں لیکن وہ جذبہ اور ایمانی حرارت دکھائی نہیں دیتی جس کی ضرورت ہے۔ شریعت پر حملے اور مداخلت کے باوجود سناٹا اور بے حسی کا ماحول ہے۔ اسی بے حسی اور ایمانی جذبہ کی کمی کا نتیجہ ہے کہ ہم پر ظالم حکمراں مسلط کردیئے گئے جو روزانہ نت نئے انداز میں امتحان لے رہے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ جیسے اعمال ہوں گے ، ویسے حاکم مسلط کئے جائیں گے۔ بات جب احساس کی چل پڑی ہے تو یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ شریعت میں مداخلت کو اہل ایمان نے ہضم کرلیا لیکن ملک کا ایک چھوٹا گروہ یعنی راجپوت سماج ایک تاریخی واقعہ سے اختلاف کرتے ہوئے ایک فلم کی نمائش کو روکنے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ فلم کی کہانی سے ہندو طبقہ کے مذہبی معاملات کا کوئی تعلق نہیں لیکن ایک تاریخی واقعہ پر سارے ملک میں ہنگامہ کھڑا کیا گیا اور چار ریاستوں کو فلم کی نمائش پر پابندی عائد کرنی پڑی۔ آخر یہ کیا جذبہ اور کونسا احساس تھا کہ حکومتوں کو جھکنا پڑا اور اب تو سپریم کورٹ کے احکام کو ماننے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ ایک تاریخی واقعہ کو لیکر راجپوت سماج کی غیرت اور حمیت کا یہ عالم ہے کہ تو پھر دین حق کے ماننے والوں کا شریعت کے بارے میں کیا جذبہ ہونا چاہئے ۔ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ نے مخالف شریعت فیصلہ سنایا اورحکومت نے قانون سازی کی نیت سے لوک سبھا میں بل منظور کرلیا اور اب راجیہ سبھا کی باری ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن مسلمانوں پر بے حسی چھائی رہی۔ شریعت سے زیادہ کیا ایک فلم اہمیت کی حامل ہے؟ فلم کی شوٹنگ سے ہی تنازعہ شروع ہوا اور ڈائرکٹر سنجے لیلا بھنسالی کی پٹائی کی گئی۔ فلم تیار ہونے کے باوجود ریلیز نہ ہوسکی اور راجپوت طبقہ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے فلم کا نام پدماوتی سے پدماوت کرنا پڑا۔ اس کے باوجود احتجاج جاری رہا اور چار ریاستوں گجرات ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور ہریانہ میں نمائش پر پابندی لگادی۔ سپریم کورٹ نے اس پابندی کے خلاف حکم التواء جاری کیا ، باوجود اس کے فلم کی نمائش کو خطرہ برقرار ہے۔ ایک فلم اور اس میں تاریخی واقعہ کو لیکر ایک چھوٹے طبقہ کے جذبات اس قدر شدید ہیں کہ وہ مرنے مارنے آمادہ ہیں لیکن ہم شریعت کے مسئلہ پر جمہوری انداز میں احتجاج کیلئے بھی تیار نہیں۔ ایرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر بیان بازی ، ٹی وی اسٹوڈیوز میں مباحث میں حصہ لینا یا پھر احتجاجی جلسوں میں تقریری صلاحیتوں کا مظاہرہ ، مذہبی اور سیاسی قیادت کا فیشن بن چکا ہے۔ یہی بے حسی چھائی رہی تو شریعت کے دیگر معاملات میں بھی مداخلت اور تبدیلی کیلئے ہمت بڑھ جائے گی۔ ’’جان سے زیادہ پیاری ہماری شریعت‘‘ کے نعرے صرف پوسٹرس کی زینت بنے رہے اور حلق سے نیچے نہیں اترے۔ دونوں معاملات میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ۔ ہم نے شریعت میں مداخلت کے فیصلہ کو خاموشی کے ساتھ تسلیم کرلیا جبکہ فلم اور وہ بھی فرضی کرداروں کے معاملہ میں راجپوت سماج سپریم کورٹ کو ماننے تیار نہیں۔ یہی ہے واضح فرق جذبہ اور احساس کا۔ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔ ججس میں اختلاف رائے دیکھا گیا لیکن حکومت کو قانون سازی میں عجلت ہے جس سے اس کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔
طلاق ثلاثہ کے بعد نریندر مودی حکومت نے اچانک حج سبسیڈی برخواست کرنے کا اعلان کردیا۔ اگرچہ 2012 ء میں سپریم کورٹ نے 10 برسوں میں سبسیڈی کو بتدریج ختم کرنے کی ہدایت دی ہے لیکن اس کیلئے 2022 ء تک کا وقت تھا۔ نریندر مودی حکومت کو سپریم کورٹ کے احکامات کی آڑ میں مسلمانوں کو ذہنی طور پر اذیت دینا مقصود تھا ، لہذا اچانک سبسیڈی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ یہ فیصلہ محض عمومی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ سوچے سمجھے منصوبے اور حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مودی حکومت کا کوئی بھی قدم ہندو ووٹ بینک کو مستحکم کرنے کے مقصد سے خالی نہیں ہوتا۔ ایک طرف جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں کو اس فیصلہ سے خوش کرنے کی کوشش کی گئی تو دوسری طرف ہندوستان کے دورہ پر آئے وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو کو مودی حکومت نے یہ مخالف مسلم فیصلہ بطور تحفہ پیش کیا ہے۔ سبسیڈی کی برخواستگی سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے، جیسے مسلمانوں کا حج حکومت کے احسان پر منحصر تھا۔ فیصلے کی ٹائمنگ پر ضرور سوال اٹھ سکتے ہیں کیونکہ یہ ایسے وقت کیا گیا جبکہ مسلم اور اسلام دشمن اسرائیل کے وزیراعظم ہندوستان میں ہیں۔ جس ملک کو مسلمانوں کے خلاف کارروائی میں خوشی ہوتی ہے، اس ملک کے وزیراعظم کو نریندر مودی حکومت نے اسی طرح کے فیصلہ سے خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوئی بھی حکومت اور اس کے سربراہ یعنی وزیراعظم دستور پر حلف لیتے ہیں کہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا لیکن سبسیڈی سے متعلق فیصلہ دستور کی خلاف ورزی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ہندو مذہبی تہواروں اور ان کی یاتراؤں کیلئے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کروڑ خرچ کئے جاتے۔ مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن حج کے معاملہ میں محض ایک معمولی سبسیڈی کو ختم کرتے ہوئے نریندر مودی نے اپنی ذہنیت آشکارکی ہے۔ اگر حکومت کو سبسیڈی برخواست کرنا ہی تھا تو سب کے لئے ایک اصول اور یکساں سلوک ہونا چاہئے ۔ ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں کیلئے تو سبسیڈی برقرار ہے لیکن مسلمانوں کو یہ رعایت دینا حکومت کو منظور نہیں۔ اس معاملہ میں نریندر مودی خود احتسابی کرلیں کہ آیا وہ کس حد تک انصاف کر رہے ہیں ۔ تاریخ کا سبق انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ظلم آخرکار مٹنے کیلئے ہوتا ہے اور کوئی بھی ظالم حکومت برقرار نہیں رہ سکتی۔ وزیراعظم اسرائیل کا چھ روزہ دورہ ہندوستان ایسا محسوس ہورہا تھا ، جیسے دو بچھڑے ہوئے دوستوں کا ملاپ ہوا ہے ۔ نریندر مودی اپنے دیرینہ ہم خیال دوست نتن یاہو کی محبت میں اس قدر بہہ گئے کہ انہوں نے تمام سرکاری قواعد کو پس پشت ڈال دیا۔ میڈیا بریفنگ اور بات چیت میں مودی نے نتن یاہو کے نام سے زیادہ دوست کہہ کر مخاطب کیا۔ حتیٰ کہ ان کے پسندیدہ نام ’’ بی بی ‘‘ سے مخاطب کیا۔ گجرات کے چیف منسٹر کی حیثیت سے مودی اور نتن یاہو کی دوستی کا آغاز ہوا تھا ۔ وزیراعظم اسرائیل کا دورہ دراصل مسلمانوں پر نفسیاتی حملہ تھا۔ دورہ کے موقع پر مسلم جماعتوں اور تنظیموں میں کسی نے بھی زبانی احتجاج تک نہیں کیا ۔ صرف ممبئی کے مسلمانوں نے ایمانی حرارت کا مظاہرہ کیا اور وہ بھی ایسے وقت جبکہ نتن یاہو ممبئی میں تھے۔ کیا ہندوستان میں مسلمان صرف ممبئی میں ہیں؟ دیگر شہروں کے مسلمانوں اور وہاں کی قیادتوں پر سناٹا کیوں چھایا رہا۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی کوشش کے حوالے سے کم از کم احتجاج کیا جاسکتا تھا۔ ویسے فلسطینیوں پر مظالم روکنے میں عرب اور مسلم ممالک بھی ناکام ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں حافظ سعید کے ساتھ فلسطینی سفیر کی موجودگی پر ہندوستان نے احتجاج کیا تو فلسطین نے اپنے سفیر کو واپس طلب کرلیا لیکن نریندر مودی جب اسرائیل گئے تو انہوں نے فلسطینیوں پر مظالم پر زبان نہیں کھولی ۔ برخلاف اس کے کہ نتن یاہو نے ممبئی پہنچ کر دہشت گردی کی مذمت کی اور 26/11 مہلوکین کو خراج پیش کیا ۔ دراصل مودی اسرائیل سے تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتے ۔دوسری طرف مودی حکومت نے جی ایس ٹی میں مزید رعایتوں کا اعلان کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کا اشارہ دیا ہے۔ ملک میں عاملہ ، عدلیہ اور مقننہ میں توازن بگڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ عاملہ کمزور نظر آرہی ہے جبکہ مقننہ اپنا اثر کھوچکا ہے لہذا عدلیہ کا غلبہ ہورہا ہے جو جمہوریت کیلئے صحت مند علامت نہیں۔ مسلمانوں کی حالت پر معراج فیض آبادی کا یہ شعر صادق آتا ہے۔
حادثے آکے جگاتے ہیں تو ہم جاگتے ہیں
ورنہ ہر صبح ہمیں حکم اذاں ملتا ہے