پٹنہ ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کی دو نشستوں پر اہم ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے جے ڈی یو نے آر جے ڈی سے ربط پیدا کیا ہے کیونکہ اسے یہاں بی جے پی کے حمایت یافتہ ناراض امیدواروں سے سخت چیلنج درپیش ہے۔ لالو پرساد کی ستائش کرتے ہوئے اور ان پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے جے ڈی یو کے وزیر راجیو رنجن سنگھ للن نے کہا کہ لالو پرساد بی جے پی اور اس کی فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف جنگ کرتے رہے ہیں۔ وہ یقیناً بی جے پی کو کسی بھی صورت میں راجیہ سبھا انتخابات میں کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آر جے ڈی کے صدر ضمنی انتخابات میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ جے ڈی یو اور
باغی امیدواروں کے درمیان صف آرائی ہوچکی ہے۔ دو آزاد امیدوار بی جے پی کی مدد سے جے ڈی یو کے سرکاری امیدواروں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ یہ جے ڈی یو کے ناراض ارکان ہیں جنہیں پارٹی ٹکٹ حاصل نہیں ہوسکا۔ اسمبلی میں آر جے ڈی کے 21 ارکان ہیں اور فی الحال 232 رکن اسمبلی میں ان کی مؤثر طاقت ضمنی انتخابات میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ اگر آر جے ڈی جے ڈی یو کے خلاف ووٹ دیں تو پارٹی کے باغیوں کو مدد ہوگی جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے اور بی جے پی کی تائید سے جے ڈی یو کے سرکاری امیدواروں کے مقابلہ میں ہے۔ جے ڈی یو کے اسمبلی میں بشمول اسپیکر 117 ارکان ہیں۔